آراستہ کروں گا یوں اپنے سفر کو میں
چوموں گا فرطِ شوق سے دیوار و در کو میں دل روبروئے گنبدِ خضرٰی کہاں رکے سجدے سے روک لوں گا چلو اپنے سر کو میں دِکھلا کے ہجرِ شہرِ نبی میں برستی آنکھ لاؤں گا کھینچ کر بھی دعا تک اثر کو میں جس راستے کی منزلِ مقصود ہوں حضور جنت کہے کہ چوم […]