ہمیں عظمتوں کا نشاں مل گیا ہے

رواں رحمتوں کا زماں مل گیا ہے غریبوں کا والی کوئی بھی نہیں تھا ہمیں والیٔ دو جہاں مل گیا ہے گھٹا ظلمتوں کی تھی چھائی جہاں پر وہاں پر درخشاں سماں مل گیا ہے اشارے سے توڑا چمکتے قمر کو نیا معجزہ اک وہاں مل گیا ہے گواہی جو دی سو سمارِ زمیں نے […]

ہر طرف مولا کی مدحت جو بیاں ہوتی ہے

یہ محمد کی محبت سے رواں ہوتی ہے اتنے لجپال زمانے میں علی کے بچے ہو مودت تو ادا دل سے فغاں ہوتی ہے تزکرہ اُن کا لبوں سے جو ادا ہو جائے روشنی میرے سخن سے بھی عیاں ہوتی ہے معجزہ ہوتا ہے ہر وقت مساجد میں بیاں ہر نگر میں جو محمد کی […]

محبت کو قلم میں ڈال کر حرفِ ثنا لکھ دے

مہک جائے قلم تیرا اگر خیرالورٰی لکھ دے اٹھایا آپ کا کرتہ لیا بوسہ سوالی نے تو اُس کی اِس گزارش کو مودت کی ادا لکھ دے لِٹایا گرم دھرتی پر پگھلتی تن کی چربی تھی محمد کے غلاموں کا یہی رنگِ وفا لکھ دے مرے آقا کی یادوں میں جو آنکھوں سے ہوئے جاری […]

ہمراہ اپنے بطحا مجھے لے کے جاؤ لوگو

دل سے جدائی کا غم تم ہی مٹاؤ لوگو خوشبو ملے گی ہم کو، ہونٹوں سے جب لگیں گے نعلین کی زیارت اب تو کراؤ لوگو طیبہ کی آرزو میں آسی تڑپ تڑپ کر جو رو رہے ہیں ان کو دل سے لگاؤ لوگو تم ساتھ لے کے ہم کو بطحا کی وادیوں میں نقشِ […]

مسلماں اُن کے گھر سے جو وفا کرتا نظر آیا

خدا کو وہ عمل احسن ادا کرتا نظر آیا محمد کے وسیلے سے کبھی مانگے زباں میری خدا مجھ کو خطا پر بھی عطا کرتا نظر آیا جنھیں رب نے نوازا ہے محمد کی محبت سے درودوں کی محافل میں ندا کرتا نظر آیا کوئی عاشق ثنائے مصطفٰی دھرتی پہ کرتا ہے لحد میں بھی […]

زمانے سے بڑھ کر حسیں ہے مدینہ

سنو رونقِ عالمیں ہے مدینہ زمانے میں اس کو جو عزت ملی ہے نبی کے کرم سے نگیں ہے مدینہ مرے مصطفیٰ جس بشر کے ہوں دل میں ادب سے ملو تم وہیں ہے مدینہ جہاں بس رہے ہیں مرے کملی والے وہ ہر اک نگر سے بریں ہے مدینہ تبھی شانِ دھرتی پہ حیراں […]

میر تقی میر کا یوم وفات

آج میر تقی میر کا یومِ وفات ہے (پیدائش: 28 مئی 1723ء— وفات: 21 ستمبر 1810ء) نوٹ : میر تقی میر کی یومِ پیدائش کے حوالے سے کہیں باقاعدہ اور بحوالہ معلومات نہیں ملیں ۔ —— میر تقی میر اصل نام میر محمد تقى اردو كے عظیم شاعر تھے۔ میر ان کا تخلص تھا۔ اردو شاعرى […]

نہیں یہ عرض کہ آسُودۂ نِعَم رکھیے

حضرت مفتی سید امجد ربانی صاحب زید مجدہ کے ایک کلام پر تضمین نہیں یہ عرض کہ آسُودۂ نِعَم رکھیے بہ عِزّ و شہرتِ دُنیا نہ محتشم رکھیے نہ تخت و تاج کا مالک شہِ اُمَم ! رکھیے حضور ! اتنی عطا مجھ پہ کم سے کم رکھیے ’’نیاز مند کو من جملۂ خدم رکھیے‘‘ […]

یہ بلبل ، یہ تتلی ، یہ خوشبو بنا کر

ارم کی طرح دی زمیں یہ سجا کر نشاں کچھ بتائے ہمیں یوں اجل کے وہ نہروں کو دریا، سمندر میں لا کر وہ اول، وہ آخر ،وہ ظاہر، وہ باطن ازاں میں عیاں کر دیا یہ سنا کر اگر تو ہے ظاہر تو میرے خدایا دکھا اپنا چہرہ تو پردے ہٹا کر بشر کی […]

گل و لالہ کی تحریروں میں بس فکرِ رسا تُو ہے

یہی دل میرا کہتا ہے کُجا میں ہوں کُجا تُو ہے کوئی مشکل جو آ جائے پریشاں دل نہیں ہوتا کہ ہر مشکل کے رستے میں مرا مشکل کشا تو ہے جہاں تک یہ نظر جائے وہاں تک نور ہے تیرا ہر اک تصویر کے جلوے میں شامل مقتضا تو ہے ہدایت یہ مجھے قرآن […]