مفلسِ حرف کو پھر رزقِ ثنا مل جائے
رنگ و نکہت میں ڈھلی صوت و صدا مل جائے پھر کوئی لعلِ یمن مشکِ ختن ارزاں ہو خامۂ عجز کو پھر اذنِ ثنا مل جائے سوکھے دھانوں پہ کوئی ابرِ کرم کا چھینٹا فصلِ مدحت کو مری تازہ ہوا مل جائے راہ میں بیٹھا ہوں میں کب سے بچھا کر آنکھیں اے مرے ماہ […]