عشق میں آپ کے جینا ہو تو مرنا کیسا
چارہ گر آپ کے ہوتے ہوئے ڈرنا کیسا وردِ جاں آپ کا جب ذکرِ مبارک ہے شہا پھر لبوں پہ کسی حسرت کا مچلنا کیسا
معلیٰ
چارہ گر آپ کے ہوتے ہوئے ڈرنا کیسا وردِ جاں آپ کا جب ذکرِ مبارک ہے شہا پھر لبوں پہ کسی حسرت کا مچلنا کیسا
دل وہ روحانیت کے پیکر ہیں بخش اِک قطرہِ ثناء آقا تیرے اوصاف تو سمندر ہیں جن پہ سب کچھ لٹایا جاتا ہے وہی محبوبِ ہر پیمبر ہیں سب حوالے بہارِ عالم کے آپ کے حسن کے گداگر ہیں بخششِ رب کی آپ ہیں میزاں رحمتِ رب کے آپ محور ہیں جن کی بھی نوکری […]
خود خالق بھی صدقے واری سب حورو ملک حیران شہا تم باعثِ تخلیقِ آدم تم رونقِ عالم روحِ ابد تم ختمِ رُسل محبوبِ خدا تم مقصودِ قرآن شہا دل ذکر سے تیرے شاد رہے پُر نور رہے آباد رہے قربان تری غم خواری پر میرے سارے ارمان شہا جو ظلم کرے اپنی جاں پر اور […]
بُلاوا جلد ہی آتا ہے پھر مدینے سے خدا نے نعمتِ کُل سے تجھے نوازا ہے ملے ہے سارے جہانوں کو اِس خزینے سے جو مانگنا ہے درِ آلِ مصطفی سے تو سُن بڑے ہی عجز سے اخلاص سے قرینے سے فدا اگر نہ ہو ناموسِ شاہِ والا پر ہماری موت ہے بہتر پھر ایسے […]
ہر رہگزر ہی شہرِ پیمبر کو جائے ہے قرآن کا ہے محور و مقصود اُن کی ذات اور الفتِ حضور ہی رب سے ملائے ہے کیا معتبر ہے ذات تری کیا وقار ہے ربِ کریم بھی تری قسمیں اُٹھائے ہے محشر میں اُس شفاعتوں والے کی ہے تلاش ہر اِک وہاں حساب سے نظریں چرائے […]
آج معروف شاعر نواب مصطفٰی خان شیفتہ کا یوم وفات ہے (پیدائش: 27 دسمبر، 1809ء- وفات: 11 جولائی، 1869ء) —— نواب مصطفٰی خان شیفتہ 27 دسمبر 1809ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ نواب مصطفٰی خان شیفتہ جہانگیر آباد کے جاگیردار، اردو فارسی کے باذوق شاعر اور نقاد تھے۔ انھوں نے الطاف حسین حالی کو مرزا […]
آج معروف ادیب اور ماہر لسانیات سید شبیر علی کاظمی کا یوم پیدائش ہے (پیدائش: 11 جولائی 1915ء-وفات: 31 جنوری، 1985ء) —— پروفیسر شبیر علی کاظمی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز ادیب، ماہر لسانیات اور ماہر تعلیم تھے۔ آپ کاظمی سادات کے چشم و چراغ تھے شبیر علی 11 جولائی 1915ء کو […]
آج معروف شاعر قتیل شفائی کا یوم وفات ہے (پیدائش 24 دسمبر، 1919ء – وفات 11 جولائی، 2001ء) —— مختصر تعارف —— پیدائش 24 دسمبر بمقام ہری پور ہزارہ( کے پی کے) تعلیم : گورنمنٹ ہائی سکول ( ہری پور ہزارہ) شادی 1936ء میں ہوئی ۔ اولاد تین بیٹے ( پرویز ، تنویر اور نوید […]
ہے سارے نبیوں کا بھی دُلارا اُسی کو بخشی ہے دید رب نے اُسی کے شایاں تھا وہ نظارا اُسی کی آنکھوں میں حسنِ عالم اُسی کے قدموں میں سروری ہے جہاں میں ہر سو نبی نبی ہے وہ نورِ قرآن بن کے آیا عظیم احسان بن کے آیا کلامِ ربی اُسی پہ اُترا وہ […]
میرے آقا کا وسیلہ مرے کام آئے گا ہم جو بھیجیں گے درود اور سلام آقا پر درِ اکرام سے بدلے میں سلام آئے گا تھام لے گی اُسے سرکار کی رحمت بڑھ کر مرے آقا کے جو قدموں میں غلام آئے گا یہ تصور ہی معطر کیے رکھتا ہے مجھے ’’درِ آقا پہ چلے […]