تیرے ہر حکم پر ہوں فدا یا نبیسارے ارماں مرے اور سبھی راحتیں
تیری عظمت کا صدقہ حبیبِ خدا دو جہاں میں مجھے بھی ملیں عزتیں تیری تقلید میں جستجو میں تری میرا شوقِ طلب بھی کرے ہجرتیں آل و اصحاب کے گلشنِ فیض سے میرے کردار کو بھی ملیں خوشبوئیں
معلیٰ
تیری عظمت کا صدقہ حبیبِ خدا دو جہاں میں مجھے بھی ملیں عزتیں تیری تقلید میں جستجو میں تری میرا شوقِ طلب بھی کرے ہجرتیں آل و اصحاب کے گلشنِ فیض سے میرے کردار کو بھی ملیں خوشبوئیں
تو ہی جانِ بہار ہے آقا تیرے طیبہ نگر کے کیا کہنے حسن کا شاہکار ہے آقا سائلِ در کو ناز ہے جس پر وہ ترا ہی دیار ہے آقا دشمنِ جاں کے واسطے بھی دُعا یہ ترا ہی شعار ہے آقا دیکھ کر تیری سیرتِ طائف درد بھی اشک بار ہے آقا بات لفظوں […]
شافعِ روزِ جزا ہے وہ حبیبِ کبریا چہرہِ انور کے گر ہو رُو بُرو ماہِ تمام وہ بھی اِک سائل ہی لگتا ہے تمہارا دِلربا تیری چشمانِ کرم میں جھانک لے گر زندگی پھر کہاں شکوے دکھوں کے پھر کہاں خوفِ قضا تیرے اُبرو کے اشارے کی یہ کیسی شان ہے مال و دولت عقل […]
یہ نظاّرا کسی کے حسن میں بھی ضم نہیں ہوتا بجا حالات کے زیرِ اثر ہیں اُلجھنیں لیکن کسی صورت نبی کا پیار دل میں کم نہیں ہوتا
اُن کی رحمت پہ یقیں ہے تو یہ لب وا نہ کریں ہو نہیں سکتا یہ سب سائلِ در جانتے ہیں کوئی فریاد کرے اور وہ مداوا نہ کریں
اپنی قسمت جگا گئے آنسو ان کی مدحت کا اِک چراغ جلا اور شدّت بڑھا گئے آنسو تشنگی جب بڑھی حضوری کی جامِ شفقت پلا گئے آنسو تھا بہت دور وہ درِ عالی پر یہ دوری مٹا گئے آنسو نامِ سرکار ہی لبوں پہ رہا باقی سب کچھ بھُلا گئے آنسو اُن کے ابرِ کرم […]
آج معروف ناول نگار عبد اللہ حسین کا یوم وفات ہے (پیدائش: 14 اگست 1931ء – وفات: 4 جولائی 2015ء) —— عبد اللہ حسین 14 اگست 1931ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد خان تھا۔ والد محمد اکبر خان برطانوی راج میں راولپنڈی میں ایکسائزانسپکٹر کی حیثیت سے ملازمت کرتے تھے، […]
آج معروف شاعر جلی امروہوی کا یوم پیدائش ہے ۔ (پیدائش: 4 جولائی 1922ء – وفات: 12 اگست 2013ء) —— یہ عجیب و غریب بات ہے کہ ولیؔ دکنی سے لے کر شکیبؔ جلالی تک جس شاعر کے دیوان کو پڑھتا ہوں تو یہی نظر آتا ہے کہ ہر شاعر اپنے زمانے کے معاشرے سے […]
تم والیِ کونین ہو تم نازِ بشر ہو مدت سے ترے شہر کے انوار نہ دیکھے مژدہِ کرم اب تو ملے اذنِ سفر ہو بِن تیرے جو گزری ہے وہ ناشاد و پشیماں باقی جو بچی ہے ترے قدموں میں بسر ہو یہ اُن کی عطا ہے کہ ملی نوکری مجھ کو وہ دیکھتے کب […]
سر بسر دیوانِ علم و آگہی اُمّی نبی علم کے سورج بھی محتاجِ ضیا ہیں آپ کے عقلِ کل بھی ہے سوالی آپ کی اُمّی نبی آپ کے تلوؤں کا دھوون ہر بصیرت کا جمال آپ ہی کے دم قدم سے روشنی اُمّی نبی کھل گئے فکر و نظر میں سینہِ فطرت کے راز مٹ […]