زمزمہ ریز ہیں گلزار، رسولِ عربی!
نعت خواں برگ و گل و خار، رسولِ عربی! بزمِ کونین کی ہر چیز ہے مصروفِ ثنا دشت و دریا ہوں کہ کہسار، رسولِ عربی! صبح کا وقت ہے اور جھومتے لمحوں کا وجود نشۂ مدح میں سرشار رسولِ عربی! عالمِ قدس سے پہنچی ہے مشامِ جاں تک آپ کے نام کی مہکار، رسولِ عربی! […]