میری تقدیر میں یوں بارِ الہٰا ہوتا

میری آنکھیں، ترے محبوب کا چہرہ ہوتا سوچتا ہوں کہ مرا کیسے گزارا ہوتا ترا مداّح نہ ہوتا، تو میں رُسوا ہوتا ترا خورشیدِ ہدایت نہ اگر ہوتا طلوع ساری دنیا کی فضاؤں میں اندھیرا ہوتا ہاتھ ہوتے، نہ مرے پاؤں، نہ دھڑ ہوتا، نہ سر کچھ نہ ہوتا میں، فقط چشمِ تماشا ہوتا جب […]

شہرِ نبی کو جب بھی کوئی جانے لگتا ہے

میں دل کو، اور دل مجھ کو سمجھانے لگتا ہے جب بھی دیکھتا ہوں میں اپنی عمرِ گریزاں کو روضۂ اطہر کا منظر یاد آنے لگتا ہے دستِ سخا کوئی ایسا نہیں جو اپنے سائل پر عرضِ طلب سے قبل کرم فرمانے لگتا ہے نعت کا شاعر ذکرِ نبی کی ٹھنڈی چھاؤں میں غمِ زمانہ […]

دولتِ عشق ملے، عزتِ دارین ملے

دَر پر آیا ہوں مجھے صدقۂ حَسنین ملے مضطرب پھرتا ہے مداحِ رسولِ عربی نعت ہو جائے تو اِس روح کو کچھ چَین ملے ربِ احمد بھی کریم، احمدِ مُرسَل بھی کریم کیسے خوش بخت ہیں ہم، ہم کو کریَمین ملے ہاں ذرا چھیڑ مواخاتِ مدینہ کی وہ بات کیا محبت تھی کہ آپس میں […]

جب خزاں کرتی ہے اعلانِ تسلّط باغ میں

رنگ کو موسم کے پردوں میں چھُپا دیتا ہے وہ پھر خزاں کی سلطنت تاراج کر دینے کے بعد شاخساروں پر نئے غنچے کھلا دیتا ہے وہ بیج میں رکھے ہیں اس نے ممکناتِ برگ و بار خاک کے پردوں سے خوشبوئیں اٹھا دیتا ہے وہ رات کے تاریک باطن سے سحر کر کے طلوع […]

تنظیم الفردوس کا یومِ پیدائش

آج معروف شاعرہ ، محققہ ، مصنفہ اور استاد ڈاکٹر تنظیم الفردوس کا یومِ پیدائش ہے (پیدائش: 28 مئی 1966ء ) —— ڈاکٹر تنظیم الفردوس پاکستان میں اردو زبان کی ایک استاد، محقق اور مصنفہ ہیں۔ وہ مئی 2016ء سے جامعہ کراچی کے شعبہ اردو میں بطورِ صدر شعبہ خدمات سر انجام دے رہی ہیں. […]

دَہن دَہن ترے غنچے، زباں زباں تری یاد

نظر نظر تری شبنم، فغاں فغاں تری یاد سحر طلوع ہوئی ہے اس اہتمام کے ساتھ دعا دعا تری خوشبو، اذاں اذاں تیری یاد صدا و حرف کے خِطّوں میں سلطنت تیری زمیں زمیں ترے نغمے، زماں زماں تری یاد اَزل اَبَد کی لکیروں کی حد سے تُو باہر جہاں جہاں کوئی سوچے، وہاں وہاں […]

(الف اللہ) الف اکائی، ایک اکلوتا، اصل اکیلا اللہ

الف اکائی، ایک اکلوتا، اصل اکیلا اللہ اَن داتا، اُمید گھروندا، آس دریچہ اللہ اجمل، افضل، اکمل، اقدس، احسن، ارحم، اکرم افسر، اظہر، اکبر، اعظم، ارفع، اعلیٰ اللہ آن اوقات اشاعت اس کی، آٹھ پہر اشلوک ارض، آکاش، اذکار اُسی کے، انفس غوغا اللہ آل اولاد، احزاب احرار، اسقام، اعقاب سے اطہر اِستقلال، اجلال، اُجلا، […]

اے تُو کہ تیری ذات سے محکم ہے میری ذات

اے تُو کہ تیری نعت پہ نازاں قلم دوات مجھ پر سَدا رہی ہے تری چشمِ اِلتفات یہ نعت خواں ہو حشر میں بھی تیرے ساتھ ساتھ حیرت میں ہوں مَلک مرے اوجِ نصیب پر محشر کے لوگ رشک کریں مجھ غریب پر

بیداریٔ نبی پہ نچھاور ہیں مشرقین

آقا کی شب کی نیند پہ قربان مغربین صدقے حرِا کے سوچتے لمحوں پہ کعبتین حضرت پہ میں نثار، فدا میرے والدین سو بار مر کے پھر جیوں دھرتی کی دھول پر مجھ جیسی لاکھ جانیں تصدّق رسول پر