پہنچے نہ جس کی وسعتوں کو پرتوِ خیال
پہنچے نہ جس کی وسعتوں کو پر توِ خیال حیراں ہے جس کے سامنے آئینۂ مثال جس اسمِ دل پذیر میں ہے حا و میم و دال تعریف جس کی کرتا ہے خود ربِّ ذوالجلال دنیائے شش جہت کے وجود و ظہور کا ممدوح انس و جنّ و مَلک کا طیور
معلیٰ
پہنچے نہ جس کی وسعتوں کو پر توِ خیال حیراں ہے جس کے سامنے آئینۂ مثال جس اسمِ دل پذیر میں ہے حا و میم و دال تعریف جس کی کرتا ہے خود ربِّ ذوالجلال دنیائے شش جہت کے وجود و ظہور کا ممدوح انس و جنّ و مَلک کا طیور
وہ حاصلِ کتاب ہے اِس پر کتاب ختم سارے صحیفے ، سارے سماوی نصاب ختم اس پر ہوئے تمام نبوّت کے باب ختم صبحِ ازل سے اِس کی جلالَت ابد تلک قائم ہے اِس کا عہدِ رسالت ابد تلک
وہ جدِّ نامدار حسنؑ کا حسینؑ کا غازی ہے وہ اُحد کا تبوک و حنین کا ٹھنڈک جگر کی ، دِل کا سکوں ، نور عین کا تنہا کھڑا ہے فوج سے پنجہ نبرد ہے بے باک ہے ، جری ہے، بہادر ہے مَرد ہے
آج اردو، سندھی اور فارسی زبان کے شاعر، مورخ، مفسرِ قرآن، عالم دین، محقق، معلم اور سوانح نگار میر محمد سومرو کا یومِ وفات ہے ۔ (پیدائش: 3 جون 1946ء – وفات: 24 مئی 2021ء) —— پروفیسر میر محمد سومرو تخلص مقبول سندھ سے تعلق رکھنے والے اردو، سندھی اور فارسی زبان کے شاعر، مورخ، […]
آج معروف شاعر منور لکھنوی کا یوم وفات ہے (پیدائش: 8 جولائی 1897ء— وفات: 24 مئی 1970ء) —— منور لکھنؤی 8 جولائی 1897ء کو آبائی مکان محلہ نوبستہ، لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ پیدائشی نام بشیشور پرشاد تھا۔ قوم کے سکسینہ کائیستھ تھے۔منور کے ایک بڑے بھائی بابو رام شنکرپرشاد بھی تھے۔ وہ بھی خاندانی روایات […]
وہ دل پسند گیت سَحر دم طیور کا وہ مرکزی خیال کتابِ زبور کا وہ نغمۂ نجات ہے یوم نشور کا دھڑکن نہیں یہ سینے میں انساں کی بھول ہے یہ معبدِ وجود میں ذکرِ رسول ہے
وجدان و فکر و ذہن کی بس عید ہے وہی ہے لائقِ شنید وہی دید ہے وہی عالم میں صرف قابلِ تقلید ہے وہی دنیائے شش جہت میں نوائے سروش ہے وہ جنّتِ نگاہ ، وہ فردوسِ گوش ہے
جس کا خیال عین سعادت ہے وہ رسول بس دیکھ لینا جس کو تلاوت ہے وہ رسول جس کا بیاں لبوں کی عبادت ہے وہ رسول جس کا ہر ایک سانس ہے دم جبرائیل کا جس کا کہا ، کہا ہے خدائے جمیل کا
جس کا جمال زیبِ رسالت ہے وہ رسول جس کی نظر تجلّیٔ وحدت ہے وہ رسول جس کی جبین صبح کی ساعت ہے وہ رسول ظلماتِ دَہر میں وہ اجالوں کا باب ہے وہ ربِّ روشنی کا حَسین انتخاب ہے
ہے فخر جس پہ آیۂ رحمت کو وہ رسول جس نے دئیے معانی محبت کو وہ رسول محذوف جس نے کر دیا نفرت کو وہ رسول قوسِ قزح ہے امن کی دارین کے لئے وہ رحمتوں کا ابر ہے ثقلین کے لئے