اردوئے معلیٰ

Search

آج اردو، سندھی اور فارسی زبان کے شاعر، مورخ، مفسرِ قرآن، عالم دین، محقق، معلم اور سوانح نگار میر محمد سومرو کا یومِ وفات ہے ۔

میر محمد سومرو (پیدائش: 3 جون 1946ء – وفات: 24 مئی 2021ء)
——
پروفیسر میر محمد سومرو تخلص مقبول سندھ سے تعلق رکھنے والے اردو، سندھی اور فارسی زبان کے شاعر، مورخ، مفسرِ قرآن، عالم دین، محقق، معلم اور سوانح نگار تھے۔
میر محمد سومرو 3 جون 1946ء کو ہنگورجہ ضلع خیرپور ، صوبہ سندھ میں مولانا اللہ بخش سومرو کے علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ مذاہب عالم اور اسلامی ثقافت میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ بعد ازاں مولوی فاضل (عربی) اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ماتحت ادارے دعوۃ اکیڈمی سے خطیب کا مراسلاتی کورس پاس کیا۔ ملازمت کی ابتدا 1966ء کو پرائمری اسکول ٹیچر کی حیثیت سے کی۔ 1985ء میں ڈاکٹر این اے بلوچ ماڈل اسکول، سندھ یونیورسٹی حیدرآباد، سندھ میں لیکچرر مقرر ہوئے، جہاں 2006ء تک تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے۔
میر محمد سومرو کا سب سے بڑا کارنامہ قرآن مجید کی تفسیر تفسیرِ ریاض القرآن ہے جو آپ نے سندھی زبان میں تحریر کی ہے۔ دیگر تصانیف میں ھالۃ البدر فی تحقیق احکام السفر (عربی)، دستورالاسلاف فی اصلاح الاخلاف (اُردو) اور تاریخ ہنگورجا (سندھی) قابلِ ذکر ہیں۔ آپ کی عربی، فارسی، سندھی اور اُردو زبان میں تصنیف، تالیف و مضامین کی تعداد دو سو سے زائد ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : مولائی شیدائی کا یوم وفات
——
تصانیف
——
تفسیرِ ریاض القرآن (سندھی)
ھالۃ البدر فی تحقیق احکام السفر (فقہ، عربی)
دستورالاسلاف فی اصلاح الاخلاف (سوانح، اُردو)
تاریخ ہنگورجا (سندھی) (ہنگورجا شہر کی تاریخ)
سلطانی سھاگ (فقہ، سندھی)
فضائلِ شبِ قدر (فقہ، اُردو)
جذبا تِ مقبول (نعتیہ شاعری، سندھی)
موتین جی مالا (سوانح، سندھی)
——
وفات
——
میر محمد مقبول سومرو کورونا وبا میں مبتلا ہو کر 24 مئی 2021ء کو ہنگورجا، ضلع خیرپور، پاکستان میں وفات پا گئے۔ آپ کو ہنگورجا کے قبرستان نبھندو شاہ میں سپردِ خاک کیا گیا۔
——
دستورالاسلاف فی اصلاح الاخلاف (سوانح، اُردو)
——
دستورالاسلاف فی اصلاح الاخلاف، پروفیسر(ر) میرمحمد”مقبول” سومرو کی اُردو تصنیف ہے جس میں آپ نے اپنے والد مولانا اللہ بخش سومرو (پیدائش:1923ء – وفات: 2008ء) کی سوانح کو مرقوم کیا ہے۔ کتاب کے مصنف پروفیسر(ر) میرمحمد”مقبول” سومرو شاعر، مذہبی عالم، محقق، ماہرِ تعلیم اور مفسرِ قرآن تھے۔ مصنف کی دیگر مطبوعات میں تفسیرِ ریاض القرآن، تاریخ ہنگورجا، فضائلِ شبِ قدر، سلطانی سھاگ، جذباتِ مقبول، ھالۃ البدر فی تحقیق احکام السفر ( عربی) و دیگر دو سو سے زائد مطبوعہ و غیر مطبوعہ کتب و مضامین شامل ہیں۔
دستورالاسلاف فی اصلاح الاخلاف میں مولانا اللہ بخش سومرو کی تعلیم، خاندانی کوائف، ذاتی کتب خانہ، دوست احباب اور زیرِ مطالعہ کتب کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ مصنف نے کتاب کی تیاری میں عربی، فارسی، سندھی اور اُردو کی 41 کتابوں سے مدد لی ہے جس کی تفصیل کتاب کے آخر میں درج ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : آغا سلیم کا یوم پیدائش
——
تبصرے و آراء
——
علامہ پیرعبدالوحید جان سرہندی مذکورہ کتاب کے بارے میں فرماتے ہیں:
””دستورالاسلاف فی اصلاح الاخلاف” سندھ کی ایک عظیم علمی، ادبی اور روحانی شخصیت کی حیات طیبہ پر لکھی گئی ہے، جس نے اپنی سارےی زندگی تقویٰ اور پرہیز گاری میں بسر کی اور ہمیشہ اپنے نایاب کُتب خانے کی دینی کتابوں کا مطالعہ کرتے رہے۔ آپ (مولانا اللہ بخش سومرو) کئی کتابوں کے مصنف اور کئی تحریروں کے محرر تھے۔ آپ کا وجوِد مسعود آج کے دور میں غنیمت تھا اور سلف صالحین کی نشانی تھے۔ “
مفتی محمد ابراہیم القادری، شیخ الحدیث جامعہ غوثیہ سکھر ،سکھر سندھ کتاب کے بارے میں فرماتے ہیں:
”زیر نظر کتاب "دستورالاسلاف فی اصلاح الاخلاف” مؤلفہ محترم جناب صاحبزادہ ابو عبداللہ میرمحمدمقبول سومرو صاحب زید مجدہ علماء سندھ پر لکھی جانیوالی کتب میں ایک خوبصورت اضافہ ہے، یہ کتاب مؤلف نے اپنے والد گرامی حضرت مولانا اللہ بخش سومرو کے حالاتِ زندگی، ان کا بچپن، جوانی، پیرسنی، ان کا ورع وتقویٰ اور عشقِ رسالت مآب پر مفصل انداز میں تحریر فرمائی ہے۔
مولانا مرحوم مؤلف کے والد ماجد ہیں اور والد اپنے بیٹوں کی نظر میں ویسے ہی لائق احترام ہوتا ہے مگر اس سے قطع نظر حضرت مولانا اللہ بخش سومرو واقعی نیک سیرت، نیک اطوار، پاکیزہ کردار کے مالک شخص تھے۔ اس فقیر کی ان سے ( مرحوم اللہ بخش سومرو) بارہا ملاقات ہوئی۔ وہ اہلِ علم سے تبادلہ خیالات کرنے میں مسرت محسوس فرماتے تھے۔ ہمارے سندھ کے اربابِ علم کا یہ المیہ ہے کی وہ اپنے قابلِ فخر اکابر کی سیرت کو کماحقہ محفوظ کرنےکےعادی نہیں ہیں۔ مگر مؤلف موصوف نے ہماری روش کے بر عکس ایک بزرگ کی شخصیت پر قلم اُٹھا کر دوسرے اربابِ علم کو قدیم روش بدلنے کی دعوتِ فکر دی ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت مرحوم (اللہ بخش سومرو) کے درجات بلند فرمائے۔ آمین
——
حوالہ جات
——
انسائیکلوپیڈیا سندھیانا (سندھی) جلد ہشتم، سندھی لینگویج اتھارٹی، حیدرآباد، سندھ، ص218
دستورالاسلاف فی اصلاح الاخلاف، میرمحمد "مقبول” سومرو، اگست 2009، کراچی، ص 10
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ