خُرد و کلاں کا اعلیٰ وادنیٰ کا سب کا ربّ
واحد ، اَحَد ، وحید اسی کے سبھی لقب وہ آرزو کی جان ہے وہ لذّتِ طَلَب وِرد اس کا زیبِ قلب ہے ذکر اس کا فخرِ لَب دھڑکن کی یہ صدا تو خِرد کی دلیل ہے سینے میں ورنہ ذکرِ خدائے جمیل ہے
معلیٰ
واحد ، اَحَد ، وحید اسی کے سبھی لقب وہ آرزو کی جان ہے وہ لذّتِ طَلَب وِرد اس کا زیبِ قلب ہے ذکر اس کا فخرِ لَب دھڑکن کی یہ صدا تو خِرد کی دلیل ہے سینے میں ورنہ ذکرِ خدائے جمیل ہے
آج اردو اور پنجابی کی شاعرہ اور ادیبہ افضل توصیف کا یوم پیدائش ہے۔ (18 مئی ، 1936 ء – 30 دسمبر ، 2014 ) —— افضل توصیف پاکستانی پنجابی زبان کی مصنفہ، کالم نگار اور صحافی تھیں۔ اپنی زندگی کے دوران انہوں نے پاکستان میں فوجی آمریت کو تنقید کا نشانہ بنایا جس بنا […]
مالک تمام سلسلۂ ممکنات کا رازق ہے جِنّ و اِنس و مَلک کی حیات کا خالق ہے رنگ و زاویۂ شش جہات کا ممنون ، خدوخالِ جہاں اس کی ذات کے اس نے تراشے نقش رُخِ کائنات کے
ہیں طائرِ خیال و تفکرّ کے خام پر وجدان و عقل و ہوش جھکیں اس کے نام پر حیرت بجاں ہے آدمی اس کے نظام پر تَر ہے جبینِ فن عرقِ انفعال سے بالا ہے وہ گماں سے خِرد سے خیال سے
ہر عہد، ہر مقام کا، آنات کا نبی شمس و مہ و نجوم کا، ذرّات کا نبی وہ شرق و غرب و ارض و سماوات کا نبی فن کار، فن، شعور، ہُنر اس کے اُمّتی جذبات، اشک، قلب، نظر اس کے اُمّتی
رنگوں کا، خوشبوؤں کا، خیالات کا نبی موسم کا، روشنی کا، نباتات کا نبی شیشوں کا، پتھروں کا، جمادات کا نبی رہرو، شدید دھوپ، سفر، اس کے اُمّتی سایہ، قیام، کُنجِ شجر اس کے اُمّتی
بھیگی سُلگتی شب میں فسردہ دلوں کی ہُوک پت جھڑ کی زد میں آئی ہوئیں کونپلیں مُلوک صیّاد دیدہ صید میں وہ شانتی کی بھُوک ایمن کا ہو کلیم کہ یوسف ہو چاہ کا ہر جذبہ مدح خواں ہے رسالت پناہ کا
وہ دورِ کذب و تیرگی میں صادق و امین وہ نازِ محفلِ فلک، وہ زینتِ زمین وہ خاتمِ پیمبراں، وہ نورِ اوّلین صدیقِ ذاتِ باری و فاروقِ خیر و شر دنیا کے اغنیاء کا غنی، مرتضیٰ نظر
دھڑکن سے مجھ کو اسمِ محمد سنائی دے آئینۂ خیال کو ایسی صفائی دے میں لفظِ ’’شہر‘‘ سوچوں مدینہ دکھائی دے فکر و شعور کا وَرَقِ تازہ کھول دے یا رب! تُومجھ پہ علم کا دروازہ کھول دے
مضمون میری فکر کا وہ نورِ لَم یزل اے ربِّ حرف و صَوت مری مشکلوں کا حل کوئی قصیدہ، کوئی رباعی، کوئی غزل ایسا بیاں جو لائقِ شانِ رسول ہو جو بارگاہِ مصطفوی میں قبول ہو