تمنا دل میں نہیں کچھ بھی ما سوا کے لیے
کہ اذنِ حاضری عاصی کو بھی عطا ہو جائے شہہِ مدینہ کی جب اک نگاہ ہو جائے غم زمانہ سے تو وارثیؔ رہا ہو جائے
معلیٰ
کہ اذنِ حاضری عاصی کو بھی عطا ہو جائے شہہِ مدینہ کی جب اک نگاہ ہو جائے غم زمانہ سے تو وارثیؔ رہا ہو جائے
اس کا کب ڈوبتا سفینہ ہے نور برسے گا آسمانوں میں تیری میلاد کا مہینہ ہے
ہوئے نور مبیں سے ہی زمین و آسماں روشن مٹیں تاریکیاں قلب و نظر کی نورِ احمد سے نبی کے نور سے ہے وارثیؔ سارا جہاں روشن
کب نامراد لوٹا یا خالی چلا گیا حاضر درِ حبیب ہوا جب بھی وارثیؔ کر کے سلام چوم کے جالی چلا گیا
پھیلا ہے نور آپ کا سارے جہان میں ہر ذی نفس کو اس لیے قسمت پہ ناز ہے امت وہ بخشوائیں گے محشر میں وارثیؔ ہر امتی کو ان کی شفاعت پہ ناز ہے
عرش والے وہاں پہنچے ہیں سلامی کے لیے اپنی قسمت پہ نہ کیوں ناز کریں وارثیؔ جی اذن ہوجائے عطا جن کو غلامی کے لیے
بخشوانے ہمیں تاجدار آ گئے خوش نصیبی ہے امت کی یہ وارثیؔ لب پہ آقا کے جو بار بار آگئے
نبی ماہِ کامل صحابہؓ ستارے نہ امید ہوتی شفاعت کی آقاؓ کہاں جاتے محشر میں عاصی بے چارے
اتنا آساں نہیں ہر کسی کے لیے عظمتِ مومنیں ہے یہی وارثیؔ جینا مرنا ہے سب کچھ نبی کے لیے
غلاموں کے سر پر ہیں رحمت محمد یہ ایمان ہے وارثیؔ روزِ محشر کریں گے ہماری شفاعت محمد