عرضِ نیاز تشنہ لب، ذوقِ خیال خام تھا
نعتِ نبی کہاں ہوئی، حرفوں کا انتظام تھا طاقِ وجودِ شوق میں جلتا رہا چراغ دل جلوہ گہِ خیال میں شب کو ترا خرام تھا ایک مدارِ کیف میں بیت گئی طلب گھڑی صبح میں تیری یاد تھی، شام میں تیرا نام تھا تیرے حضور میں کریم یکساں رہا معاملہ پیچھے ترے غلام تھے، آگے […]