عرضِ نیاز تشنہ لب، ذوقِ خیال خام تھا

نعتِ نبی کہاں ہوئی، حرفوں کا انتظام تھا طاقِ وجودِ شوق میں جلتا رہا چراغ دل جلوہ گہِ خیال میں شب کو ترا خرام تھا ایک مدارِ کیف میں بیت گئی طلب گھڑی صبح میں تیری یاد تھی، شام میں تیرا نام تھا تیرے حضور میں کریم یکساں رہا معاملہ پیچھے ترے غلام تھے، آگے […]

رات کی آنکھ لگی، خواب کا منظر جاگا

دل دریچے سے تری دید کا خاور جاگا ایک لمحے کو تو تھا اسم وہ آنکھوں میں رواں پھر مری روح میں چمکا، مرے اندر جاگا نکہت و نُور سے لکھنی تھی تری نعت، مگر حرفِ بے خود مری تدبیر سے اُوپر جاگا ذرہ چاہا تو ستاروں نے کیا میرا طواف قطرہ مانگا تو عطاؤں […]

لکھتا ہی رہوں سیدِ کونین کی مدحت

اللہ کرے مجھ کو یہ توفیق عنایت مخلوق میں اول ہے مسلّم یہ روایت بعثت میں وہ آخر ہے یہ اللہ کی حکمت بعد آپ کے لاریب ہوئی ختم نبوت پرّاں ہے عَلم آپ کا تا روزِ قیامت قرآں کا معلم ہے وہ بے داغ ہے سیرت صدقے ہے صداقت تو نثار اس پہ امانت […]

قلب یکسو ہے مرا عالمِ تنہائی ہے

نعت لکھنے پہ طبیعت مری آج آئی ہے تنِ سیمیں پہ فدا حسن ہے رعنائی ہے جس نے دیکھا نہیں وہ بھی ترا شیدائی ہے شبِ معراج سے معلوم ہوا ہے ہم کو خلوتِ عرش میں تیری ہی پذیرائی ہے تیری صورت تری سیرت تری فطرت یکتا بارک اللہ تری ذات میں یکتائی ہے روحِ […]

آج پروازِ تخیل سوئے آں دلدار ہے

بزمِ ہست و بود میں فطرت کا جو شہکار ہے وہ ہے ختم المرسلیں دنیا کا وہ سردار ہے زیرِ گردوں اس کی ہی سب سے بڑی سرکار ہے نرم خو ہے، خوبرو ہے، صاحبِ کردار ہے مردِ عالی حوصلہ ہے اور بلند افکار ہے دشمنوں سے راہِ حق میں برسرِ پیکار ہے رعب ہیبت […]

روح کی بالیدگی اور دل کی فرحت کے لئے

نعت لکھتا ہے یہ احقر اس ضرورت کے لئے تا قیامت ساری دنیا کی ہدایت کے لئے آئے سرکارِ دو عالم اس ضرورت کے لئے چاہئے تھا اک نبی ختمِ نبوت کے لئے چن کے بھیجا رب نے ان کو اس ضرورت کے لئے اک نبی آنا تھا نبیوں کی امامت کے لئے بعثتِ محبوبِ […]

نہیں ہے دم خم کسی میں اتنا

نہیں ہے دم خم کسی میں اتنا ثنا نبی کی جو لکھے کامل ہے نعت گوئی میں میری نیت رضائے خالق ہو مجھ کو حاصل کمال و خوبی ہر ایک لے کے خمیرِ فطرت میں کر کے داخل خدا نے پیدا کیا وہ ہادی کہ جس پہ کرنا تھا دین کامل بھٹک چکا تھا جو […]

دل ہم سے مقتضی ہے ثنائے حضور کا

ہم تک رہے ہیں نور چراغِ شعور کا ذکر آ گیا زباں پہ مری آں حضور کا عالم عجیب دل میں ہے کیف و سرور کا میثاق انبیاء سے وہ ربِ غفور کا چرچا ہوا ازل ہی سے ان کے ظہور کا صورت ہے ان کی آئینۂ حسنِ لم یزل سیرت پہ انعکاس ہے قرآں […]

ثنا ہے لب پہ شاہِ دوسرا کی

سراپا جو کہ ہے رحمت خدا کی زہے سیرت محمد مصطفیٰ کی کہ خود ربِ دو عالم نے ثنا کی بیاں کیا ذاتِ اقدس کی ہو پاکی کہ اس نے سیر کی عرشِ عُلا کی وہاں تک روشنی ہے نقشِ پا کی جہاں پہنچے کوئی نوری نہ خاکی وفا نا آشناؤں نے جفا کی مگر […]

بقدرِ فہم کرتے ہیں ثنا جتنی بھی ہو ہم سے

کہ تکمیلِ ثنا ممکن نہیں ابنائے آدم سے ترے چہرے کے آگے اور سب چہرے ہیں مدھم سے ترا پیکر ہے موزوں تر حسینانِ دو عالم سے تیری سیرت بتائیں ہم کوئی پوچھے اگر ہم سے کہ وہ تو ہو بہو ملتی ہے قرآنِ مکرّم سے سکونِ دل میسّر ہو جو گیسوئے منظّم سے پریشاں […]