مدینے کی ہوا ہے اور میں ہوں

بہارِ جانفزاں ہے اور میں ہوں قلم ہے رات کا پچھلا پہر ہے خیالِ مصطفیٰ ہے اور میں ہوں مرا مدفن بنے شہر مدینہ یہی لب پر دعا ہے اور میں ہوں مری جھولی میں ہے دولت سخن کی تصور میں خدا ہے اور میں ہوں نہیں ہے آب و دانہ کی ضرورت درودوں کی […]

نسیم امروہوی کا یومِ وفات

آج ماہرِ لسانیات، صحافی، مرثیہ گو اور اردو کے نامور شاعر نسیم امروہوی کا یومِ وفات ہے۔ (پیدائش: 24 اگست 1908ء – وفات: 28 فروری 1987ء) —— نسیم امروہوی پاکستان سے تعلق رکھنے والے لغت نویس، مورخ، صحافی اور اردو کے نامور شاعر تھے جو مرثیہ گوئی کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ سید مرتضیٰ […]

نوعِ انسان کے لیے آج بھی کردارِ رسول

مشعلِ راہِ ہدیٰ صرف ہے معیارِ رسول ہر زمانے کے لیے رشد و ہدایت کا چراغ سیرتِ سرورِ دیں منبعِ انوارِ رسول عمر بھر تکیہ لگائے ہوئے میں بیٹھا رہوں کاش مل جائے مجھے سایہ دیوارِ رسول جس نے سرکار کی خدمت میں کیا عرض ہنر یعنی حسان وہ شاعر وہ قلم کارِ رسول دستِ […]

یہ فرض عقیدت ادا کر رہا ہوں

میں توصیفِ خیرالوریٰ کر رہا ہوں محمد محمد مدینہ مدینہ یہی ورد صبح و مسا کر رہا ہوں الاؤ دہکتا ہے سینے کے اندر جدائی کا سامنا کر رہا ہوں غموں اور دکھوں کی تمازت میں سر پر بہارِ مدینہ ردا کر رہا ہوں غلامی شاہ مدینہ کی صورت میں تقلیدِ رب علیٰ کر رہا […]

میرے صادق میرے امین سلام

دل پذیر اور دل نشین سلام بھیجتا ہے درود ان پہ خدا پیش کرتے ہیں مومنین سلام تجھ کو کرتا ہے عرش سے خالق اے کھجوروں کی سر زمین سلام رمز اوقافِ الکتاب درود اس کی ہر آیت مبین سلام لکھ رہا ہے ابد کی تختی پر میرا ایمان اور یقین سلام پیروکار ان پہ […]

پناہ قہر سے غیظ و غضب سے مانگتا ہوں

میں صبح شام دعا اپنے رب سے مانگتا ہوں چراغِ فکر کی لو کو بڑھا دیا جائے خدائے شہرِ مدینہ ادب سے مانگتا ہوں وسیلہ ہونا ضروری ہے باریابی کا دعائیں ساری نبی کے سبب سے مانگتا ہوں وہ میری فکر کی دنیا میں نور بھرتا ہے دعائیں جتنی بھی مظہرؔ میں ڈھب سے مانگتا […]

(آخری وقت) آخری وقت تھا

آخری وقت تھا رات خاموش تھی میری آہ و فغاں سنتے سنتے یہ شب تھک گئی اور تھک ہار کر سو گئی ایک میں جیسے تصویرِ سوز و الم باعثِ ہجر بیٹھا لیے چشمِ نم اپنے دل پر رکھے عکسِ نعلِ کرم مضطرب قلب کو چین دیتا رہا پھر کہیں دور سے ایک آواز نے […]

(آمدِ مصطفٰی) آخری وقت تھاخلاصی ملی

تارِ شب سے زماں کوخلاصی ملی اور بہاروں پہ پھر سے بہار آگئی جوق در جوق قدسی سرِ فرش تب سبز پرچم اُٹھائے اُترنے لگے ڈالی ڈالی پہ غنچے مہکنے لگے اور فرشِ جہاں یوں لگا جیسے خوشبو سے بھر سا گیا اور بہاروں پہ پھر سے بہار آگئی اُن کے قدموں کا دھوون تھا […]