وہ مالکِ ہر دو عالم ہیں، وہ جود و سخا کے ہیں پیکر
دیتے ہیں طلب سے بڑھ کر ہی، لوٹاتے نہیں وہ لا کہہ کر اوصاف حمیدہ کیا لکھوں پروازِ تخیل کم ہے بہت یوں نعت کی صورت بن جائے گر مل جائے جبریل کا پر مجھ عاصی اور بے مایہ کو بھی اذنِ حضوری بخشا ہے اس طرزِ عنایت پر آقا میں صحنِ حرم میں ہوں […]