دیدۂ شوق ہمیشہ سے ہی نم رکھا ہے

یادِ طیبہ میں دعاؤں کو بہم رکھا ہے وہ جگہ رشک گہِ خلد و سماوات ہوئی جس جگہ آپ نے اک بار قدم رکھا ہے مضطرب قلب عجب لطف سے سرشار ہوا یوں لگا دل پہ مرے دستِ کرم رکھا ہے سبھی الفاظ ہوئے زینتِ قرطاسِ دعا جب سے مدحت میں تری وقف قلم رکھا […]

روئے حضرت سے اگر نور نہ پایا ہوتا

دونوں عالم میں اندھیرا ہی اندھیرا ہوتا یوسفِ مصر میں سب کچھ سہی لیکن اک بار اے زلیخا مرے یوسف کو بھی دیکھا ہوتا خیر سے امت عاصی کی شفاعت کر لی ورنہ کیا جانیے کیا حشر ہمارا ہوتا عرش پر خالقِ افلاک کے مہمان ہوئے کیوں نہ دنیا سے بلند آپ کا پایا ہوتا […]

تری کاریگری یارب ہر اک شے سے ہویدا ہے

تری قدرت کا نغمہ پردۂ ہستی سے پیدا ہے نہ گردوں پر ستارے ہیں ، نہ ذرے میں بیاباں ہیں یہ تیرے حسن کی نیرنگیاں ہیں بزمِ امکاں میں کئے سطحِ زمیں پر سینکڑوں دریا رواں تو نے بہا دیں اپنے لطفِ بیکراں کی ندیاں تو نے ہو کے زور سے جوشِ نمو بخشا زمینوں […]

شاہ مدینہ

شاہ مدینہ شاہ مدینہ یثرب کے والی سارے نبی تیرے در کے سوالی شاہ مدینہ شاہ مدینہ جلوے ہیں سارے تیرے ہی دم سے آباد عالم تیرے کرم سے باقی ہر اک شہ نقش خیالی سارے نبی تیرے در کے سوالی شاہ مدینہ شاہ مدینہ تیرے لئے ہی دنیا بنی ہے نیلے فلک کی چادر […]

پلتی ہے کب سے دِل میں مدِینے کی آرزُو

اور اُن کی چشمِ پاک سے پینے کی آرزُو آقائے دو جہاں سے عقِیدت نہ ہو تو، ہو مرنے کا حوصلہ نہ ہی جِینے کی آرزُو ایسا بھی ہو گا دن کہ مدینے کو جائیں گے حج کے ہجوم میں ہے پسینے کی آرزُو جِن کو حضور یاد کریں خوش نصیب ہیں اُن کا ہُنر […]

مُجھے نِسبت مُحمد مصطفی سے

بڑا تُحفہ مِلا فضلِ خُدا سے گلوں کے لب پہ ہے ذکرِ محمّد کہا کیا راز شبنم نے صبا سے تصوّر میں مدِینے کی گلی ہے میں گُم ہوں سوچ میں کُچھ اس ادا سے عطا ہو رُوئے انور کا نظارہ کہاں تک دل کو دُوں یُونہی دلاسے مدینے کی گلی کوچوں میں گھوموں جہاں […]

اے خُدا نصیب میں رکھ درِ مُصطفے کے بوسے

ھُوں سگِ درِ محمد کبھی دُوں  میں جا کے بوسے کوئی رُوح تک اُترتا جو پیام لا رہی ھے میرے دِل نے احتراما لیئے اُس ھوا کے بوسے میں مچلتے دِل پہ آقا، نہیں رکھ سکا ھوں قابو سو یہ نذر کر رہا ھوں، سرِ دِل لگا کے بوسے جو انی پہ چڑھ کہ قُرآں […]

اے شہِیدِ کربلا

اے شہِیدِ کربلا تُجھ پر فِدا میری وفا کاش تیری ذات سے بن جائے میرا سِلسِلہ ہے کرم اللہ کا گرویدہ ہیں اسلام کے ہر جگہ جلوہ نما وہ عکس اس کا جا بجا جاں نچھاور کی ہی تو نے عظمتِ اسلام پر اللہ اللہ  برہنہ خنجر تلے سجدہ کیا لے کے مشکِیزہ چلے جانا […]

کون سا حرف لِکھوں کون سا لہجہ برتُوں

تُو کہ مولا ہے تِرے ذکر میں کیا کیا برتُوں میرے ماتھے پہ عرق آج نِدامت کا سہی میں تو بے سائے کی رحمت ہی کا سایہ برتُوں ہیں شجر رقص کناں، باد ثنا خوان تری بے خودی ایسی بڑھی ہے کہ میں سجدہ برتوں نام حسرتؔ کے لبوں پر ہو تِرا شام و سحر […]

مُجھ کو تیرا نام ھے اِک اِنعام برابر

ھو جاتے ہیں میرے بِگڑے کام برابر نہ عربی نہ عجمی، بہتر اچھّے عملوں والے ہیں تیرے دربار میں خاص و عام برابر تیرے لُطف سے کرتے ہیں طے زِیست سفر ورنہ کِس کو ھمّت ھے اِک گام برابر عاصی ھوں گے، حوضِ کوثر اور شراب پِھر تو حسرتؔ پی لیں گے ھم جام برابر