سلام اے سبز گُنبد کے مکِیں تُجھ پر سلام

سلام اے رحمتہ الّلعالمیں تُجھ پر سلام کنارے لگ گئی کشتی جو تیرے نام کی تھی زمانے میں کوئی تُجھ سا نہِیں تُجھ پر سلام ہمیں تیری شِفاعت کا سرِ محشر سہارا ھو شہِ یثرب ھے تُو صادِق، امِیں تُجھ پر سلام کبھی طائف میں تُجھ پر حق کی خاطر سنگ برسے ہیں اُنہیں بھی […]

بساؤں آنکھ میں بس اپنے یار کی صورت

فقط یہی ہے مِرے اِفتخار کی صورت مِرے حسینؓ کی کیا بات ہے کہ حق کے لیئے کھڑے ہیں ڈٹ کے کسی کوہسار کی صورت جگی ہے جب سے مدینے کی حاضری کی اُمنگ نہ پوچھ مجھ سے مرے انتظار کی صورت حضور خواب میں آئیں تو بات بن جائے لٹاؤں اُن پہ یہ بانہیں […]

درُود اُن پر سلام ہیں بے شُمار بیشک

اُنہی کے دم سے ہے زِیست یہ پُر بہار بیشک ہمارا اعزاز ہے کہ ہم اُن کے اُمّتی ہیں تمام نبیوں میں جن کو ہے اِفتخار بیشک کبھی تو ہم کو بھی حاضری کا شرف ملے گا ہمیں مدِینے میں آ کے ہو گا قرار بیشک نہیں ھے دنیا کی اور دولت کی چاہ یاربّ […]

خطا کا پُتلا ہوں مولا، گُناہگار ہُوں میں

تِرا کرم مُجھے درکار تار تار ہُوں میں یہ دُنیا دار مُجھے یُوں حقِیر مانتے ہیں گُلوں کے بِیچ میں جیسے کہ ایک خار ہُوں میں تمام عُمر گُزاری ہے دِل دُکھاتے ہُوئے نہِیں ہے جِس میں کشِش ایسا کاروبار ہُوں میں مُجھے بھی اپنے مُحمد کے درس دِکھلا دے یہ آس رکھے ہُوئے ہُوں […]

خوشحال خان خٹک کا یوم وفات

آج پشتو کے نامور شاعر اور ہیرو خوشحال خان خٹک کا یوم وفات ہے۔ (پیدائش: مئی/جون، 1613ء- وفات: 20 فروری، 1689ء) (نوٹ : تاریخِ وفات منتخبات خوشحال خان خٹک کتاب کے صفحہ نمبر 40 سے لی گئی ہے) —— خوشحال خان خٹک 1613ء میں پشاور کے نزدیک ایک گاؤں اکوڑہ میں پیدا ہوئے۔ اوائل عمری […]

مِری جبِیں میں یہ عاجزی اِس یقِین پر ہے کہ تُو ہے آقا

نہِیں اُٹھے گا جو تیرے سجدے میں میرا سر ہے کہ تُو ہے آقا ہوا بھی مستی میں جھوم جائے، فضا نئے گیت گا سنائے تِری ہی توصِیف میں تو اِیمان کی ڈگر ہے کہ تُو ہے آقا زباں کہ لُکنت سے کٹ رہی ہے، جبِیں پسِینے سے تر بتر ہے مگر خُدایا! نزولِ رحمت […]

آنکھ بھر کر دیکھ لیں بس آپ جو ختمُ الرُّسُل

ہم غریبوں کا بھی بیڑا پار ہو ختمُ الرُّسُل پیاس بڑھتی جا رہی ہے اس گدا کی ہر گھڑی اپنے درشن بخش دِیجے آج تو ختمُ الرُّسُل جس نے حق کے رو برُو اُمّت کی بخشِش، مانگ لی آپ وہ اللہ کے پیارے ہیں وہ ختم الرّسل وقت جِتنا بھی کٹِھن ہو، مُشکلیں آسان یوں […]

اترے ہے دل پہ عشق سا پیغام صبح و شام

سمجھاؤں جی کو خود کو کروں رام صبح و شام ذکرِ نبی کی بات الگ ہے، کیا کرو محسوس ہو گا خود بخود آرام صبح و شام زخموں سے چُور چُور ہوں لِلّلہ اک نگاہ سہتا رہوں گا کب تلک آلام صبح و شام پنجتن کا پاک اسم ضمانت سکوں کی ہے لب پر سجا […]

طائِف میں ایک نُور کا پیکر لہُو لہُو

یا کربلا میں دیکھا ہے خنجر لہُو لہُو کربل کتھا کا ہم کو ذرا حوصلہ نہِیں ہوتا ہے دِل ہی داستاں سُن کر لہُو لہُو سر شاہ کا جُدا تو کیا ہے لعِین نے محوِ کلام نیزے پہ ہے سر لہُو لہُو دیکھا ہے جب سے چشمِ تصوُّر سے کربلا جنگل لہُو ہے، دشت لہُو، […]

لہو کا ذائقہ جب تک پسینے میں نہیں آتا

میں پیدل چل کے مکّے سے مدینے میں نہیں آتا کوئی مقصد تو ہے سینے میں سانسوں کی تلاوت کا فقط جینا تو جینے کے قرینے میں نہیں آتا بس اُنگلی کے اشارے سے مرے دل کو بھی شق کر دے پگھلنے سے یہ پتھر آبگینے میں نہیں آتا مدینے کی ہَوا کی تمکنت ملتی […]