بیانِ غم کے لیے ، شرحِ آرزو کے لیے
کہاں سے لاؤں زباں اُن سے گفتگو کے لیے
معلیٰ
کہاں سے لاؤں زباں اُن سے گفتگو کے لیے
جیسے جکڑے ہُوئے دونوں پَر کُھل گئے بس تصوّر کیا آپ موجود ہیں نور کے سلسلے آنکھ پر کُھل گئے بس اُدھر گھومی دل میں کلیدِ ثنا ایک اک کرکے سب قفل اِدھر کُھل گئے یامحمد کہا اور تہہ میں گیا راز جتنے بھی تھے سر بہ سر کُھل گئے تُو مدینے کی گلیوں سے […]
چراغِ اسمِ محمّد مُجھے جگانے لگے یہ کیسا فطری تعلّق ہے چشم و اسم کے بیچ کہ تیرا ذکر ہُوا اور ابر چھانے لگے عجیب کیف سا چھایا رہا شبِ معراج دِیے وجود کے طاقوں پہ جِھلملانے لگے ترے مدارِ ثنا ہی میں مُنقلب ہُوا مَیں بدن کے مُردہ عناصر کہیں ٹھکانے لگے عجیب لَے […]
کہ میرا ضبط ہے سب سے نرالا یا رسول اللہ مَیں اپنے شہر کے خونیں مناظر کس طرح دیکھوں بُنا ہے آنکھ پر مکڑی نے جالا یا رسول اللہ مُنافق رُوبرو تھے، سامنے سے جنگ کیا ہوتی کسی نے پُشت پر مارا ہے بھالا یا رسول اللہ سدا تکلیف میں گریہ کناں پھرتا رہا ہُوں […]
اِسی کی لَو سے مصیبت مری ٹلی ہُوئی ہے ترے ہی فیض سے پائے ہیں باغ نے خدوخال کہ پُھول پُھول ہُوا ہے کلی کلی ہُوئی ہے حضور آپ نے سونپا ہے حیدری نعرہ اِسی کی گونج سے دِل میں علی علی ہُوئی ہے اے اسمِ پاک چمک اور صُبح کر مُجھ میں یہ رات […]
ترے کرم ہی سے خیرات یہ مِلی ہُوئی ہے دُرود پڑھتا ہُوا آ رہا ہوں محفل سے اِسی لئے مری رنگت کِھلی کِھلی ہُوئی ہے حضور کوئی سہارا کہ گرنے والی ہے مری فصیل جو بنیاد سے ہِلی ہُوئی ہے اے نُطقِ پاک مرے دل کی خامشی کو توڑ مری صدا مرے حلقوم میں سِلی […]
ہم ایک گوشۂ سرسبز چار سُو پائیں کمال ہو کہ سحر دَم جُونہی چراغ بُجھے تو خود کو روضۂ اقدس کے رُو بہ رُو پائیں کٹے تو صرف کٹے آپ کے لئے گردن ہم اپنے دل میں شہادت کی آرزُو پائیں ترے ہی فیض سے سَر کر لیں کوہِ ہست و بود جہاں بھی جائیں […]
لیکن تلاش جس کی ہے وہ راہزن کہاں
جو سوچیے تو یہی آبروئے صحرا ہے
ایسی ہی روشنی تھی جب میرا گھر جلا تھا