چڑھتی عمروں کے فسانے کھڑکیوں میں رہ گئے
جتنے بھی خط ہم نے لکھے ، کاپیوں میں رہ گئے شہرِ ناقدراں کا تحفہ بھی نہ یکجا رکھ سکے زخم گھر تک لائے ، پتھر راستوں میں رہ گئے ہم تو خود اک سانولے منظر کے قیدی ہو گئے اور ہمارے تذکرے رنگیں رُتوں میں رہ گئے
معلیٰ
جتنے بھی خط ہم نے لکھے ، کاپیوں میں رہ گئے شہرِ ناقدراں کا تحفہ بھی نہ یکجا رکھ سکے زخم گھر تک لائے ، پتھر راستوں میں رہ گئے ہم تو خود اک سانولے منظر کے قیدی ہو گئے اور ہمارے تذکرے رنگیں رُتوں میں رہ گئے
زندگی لاحاصلی کی دھوپ میں سنولا گئی
ہمـــارے درمیــــاں شــاید زمانہ آ گیا ہے
خــواہش کا کٹورا کبھی بھرنے نہیں دیتا
اور اب چـــاروں طرفــــــــ فصــل ہے حیرانی کی
جـــــــو خــــــــــود باہَر نہیں آتا ، مجھے اندر بلاتا ہے
لیکن کِسی کو خـــــواب چُرانے نہیں دِیا
آج اردو ادب کے پہلے ناول نگار ڈپٹی نذیر احمد دھلوی کا یومِ پیدائش ھے (پیدائش: 6 دسمبر 1836ء – وفات: 3 مئی 1912ء) —— مولوی نذیر احمد جو کہ ڈپٹی نذیر احمد کے قلمی نام سے جانے جاتے ھیں 06 دسمبر 1836ء ( یا 1931 ء) کو اترپردیش کے ضلع بجنورکی تحصیل نگینہ کے […]
تو نے مجھ کو چھو لیا تو میں تِرا ہو جاؤں گا
دریا پہ ہونٹ رکّھے تو دریا تمــــام شد