پوچھا : گھروں میں کھڑکیاں کیوں ختم ہو گئیں؟
بولی کہ اب وہ جھــــــانکنے والے نہیں رہے
معلیٰ
بولی کہ اب وہ جھــــــانکنے والے نہیں رہے
کہ میرا آخری خط بھی جلا دیا تو نے
میں نے جس روز بھی پھولوں کی تلاشی لی ہے
لیکن کبھی کبھار تو گھر جانا چاہیے
تیرے خیال نے مگر رات رُلا رُلا دیا
اور جب کہیے بہ اندازِ غزل ہی کہیے موت ہر لمحہ قریب آتی ہے ہر سانس کے ساتھ سازِ انفاس کو بھی سازِ اجل ہی کہیے حسن آوارہ ہے ، بیگانہ ہے آرائش سے اس کی تعریف میں بے ربط غزل ہی کہیے دفن ہر قبر میں ہے حسرت و امید کی لاش کوئی مرقد […]
دارالفنا میں جبر ہے کیا اختیار کیا وہ تیز دھوپ ہے کہ پگھلنے لگے ہیں خواب زلفوں کے سائے دیں گے فریب بہار کیا آباد کر خرابۂ ذہن و خیال کو شہروں میں ڈھونڈھتا ہے سکون و قرار کیا سمٹے تو مشت خاک ہے یہ آدمی کی ذات بکھرے تو پھر یہ عرصۂ لیل و […]
جنگل جنگل گھوم رہا ہوں جنم جنم کی پیاس لئے جتنے موتی ، کنکر اور خذف تھے اپنے پاس لئے میں انجانے سفر پر نکلا ، مدھر ملن کی آس لئے کچی کاگر پھوٹ نہ جائے ، نازک شیشہ ٹوٹ نہ جائے جیون کی پگڈنڈی پر ، چلتا ہوں یہ احساس لئے وہ ننھی سی […]
دور تک سایۂ دیوار بڑھا دیتے ہیں
یارب مجھے دے اور تمنائے محمد