ناداں سکون اور دلِ بیقرار میں
پانی کی جستجو ہے تجھے ریگزار میں
معلیٰ
پانی کی جستجو ہے تجھے ریگزار میں
تہہِ غم بھی مسکراتے تو کچھ اور بات ہوتی مرے دل میں تم مکیں ہو رگِ جاں سے بھی قریں ہو جو نظر میں بھی سماتے تو کچھ اور بات ہوتی مرے دل کی دھڑکنیں ہیں مرے گیت میرے نغمے مرے غم کو تم بھی گاتے تو کچھ اور بات ہوتی تری بے رخی سلامت […]
لیکن نگاہِ شوق سے بچنا محال ہے اک آرزو جو زینتِ وہم و خیال ہے اک دردِ لادوا ، خلش لازوال ہے الجھا ہوا ہوں کشمکشِ زندگی سے میں اک دل ہے اور حسرت و ارماں کا جال ہے دل ٹوٹنے کا خاک مداوا کرے کوئی شیشہ جو ٹوٹ جائے تو جڑنا محال ہے اک […]
میری بے رنگی مٹا دے ، مجھ کو اپنا رنگ دے مجھ کو اپنے رنگ میں ، تُومیرے سجنا رنگ دے نیلا نیلا ہے سمندر ، نیلا نیلا آسماں رنگ آفاقی ہے نیلا ، مجھ کو نیلا رنگ دے تیری قدرت اور محبت کے بہت سے رنگ ہیں گھول کر یہ رنگ سب ، تو […]
خالق ِ نظریہ ء پاکستان، شاعر ِ مشرق ، عظیم فلسفی اور حکیم الامت حضرت علامہ ڈاکٹر محمداقبال کایوم ِ ولادت پاکستان اور بھارت سمیت دیس دیس میں منایا جارہا ہے۔شہر شہر میں اقبال کانفرنسیں ، سیمینار اور تقاریب کی بہار آچکی ہے۔ بہاول پور میں بھی بڑے پیمانے پر تین روزہ تقریبات کا اہتمام […]
بیٹا پکارنے والی صدائیں چلی گیئں بخشے گا کون مرہمِ زخم جگر اثرؔ گھر سے ہمارے ماں کی دعائیں چلی گیئں
جہاں تھک کے پاؤں ٹھہرے گیا سر کے بل وہاں سے
یہ سیکڑوں فریب تو کھائے ہوئے ہیں لوگ
شیشہ جو ٹوٹ جائے تو جڑنا محال ہے
آگ لگ جائے نہ دامن کو ، بچائے رکھنا