اردوئے معلیٰ

بہاول پور میں اقبال ۔ بابا جانی تُم میرے ہو

خالق ِ نظریہ ء پاکستان، شاعر ِ مشرق ، عظیم فلسفی اور حکیم الامت حضرت علامہ ڈاکٹر محمداقبال کایوم ِ ولادت پاکستان اور بھارت سمیت دیس دیس میں منایا جارہا ہے۔شہر شہر میں اقبال کانفرنسیں ، سیمینار اور تقاریب کی بہار آچکی ہے۔ بہاول پور میں بھی بڑے پیمانے پر تین روزہ تقریبات کا اہتمام ۔ معمول سے ذرا ہٹ کر کیا گیا ہے۔سماجی شخصیت اور ادب دوست محترم مسعود صابر نےاپنے وسیب میں ایوان ِ اقبال سجا لیا ہے ۔ جس میں گیارہ دروازے بنائے گئے ہیں ۔ ہر در پر اقبال کی شخصیت ، فلسفے ، شاعری اور خدمات کو بڑے منفرد انداز میں اجاگر کیا گیا ہے۔اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر انجینئر ڈاکٹر پروفیسر اطہر محبوب ہی نہیں تمام اساتذہ اور تلامذہ بھی یہ اقبال میلہ سجانے میں بڑے سرگرم نظر آرہے ہیں ۔ شہر کے اور بھی ادارےمفکر ِ پاکستان علامہ محمد اقبال سے محبت کاقرض ادا کرنے کیلئے بھرپور تعاون کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ گویا رَل مِل کر جو اقبال میلہ سجایا گیا ہے ،اس کے تمام رنگ دیدنی ہیں ۔بہاول پور شہر کے فرزند،روہی کے خدو خال کے مولف ،صاحب ِ طرزادیب ،ممتاز دانشور اور قادرالکلام شاعر سید عارف معین بلے نے وسیب میں سجائے گئے اقبال میلے کی مناسبت سے ایک بڑی خوبصورت نظم لکھی ہے ۔ جس میں اقبال میلے اور وسیب میں سجنے والے گیارہ دری ایوان ِ اقبال کو انہوں نے اپنی نظم کی بنیاد بنایاہے اور فکر ِ اقبال کے کئی پہلووں کو استادانہ چابک دستی کے ساتھ اجاگر کیا ہے۔ بات علامہ اقبال کی ہورہی ہے تو مجھے بھارتی شہر علی گڑھ کے نامور ادیب ڈاکٹر فوق کریمی علیگ کاایک مضمون یاد آگیا ہے ، جوانہوں نے فخر ِ ادب۔ علی گڑھ کا بلے کے عنوان کے تحت لکھاتھا۔ ڈاکٹر فوق کریمی نے لکھا تھا ۔۔سیدفخرالدین بلے اقبال کے حافظ تھے۔یہ میرا نہیں ،اُن اساتذہ کابھی خیال ہے ، جنہوں نے اقبالیات پر فخرالدین بلے سے گفتگو کی ۔ ماہر تعلیم علامہ سید غلام شبیر بخاری اور شکیل بدایونی مرحوم کہتے تھے کہ وہ شعر اقبال کا ہو ہی نہیں سکتا ، جو سید فخرالدین بلے کو یاد نہیں ۔۔فخر الدین بلے کےحوالے سے ڈاکٹرفوق کریمی علیگ کےطویل مضمون کااقتباس بتارہاہے کہ سیدعارف معین بلے کواقبال کی محبت بھی ورثے میں ملی ہے ۔ اپنی نظم میں انہوں نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ اقبال آج بہاول پور میں ہے۔ چھوٹی بحر میں یہ دلکش،اثر انگیز اور بصیرت افروز نظم قارئین کی نذر ہے تاکہ جو لوگ تقریبات میں شریک نہیں ، وہ دور بیٹھ کر بھی اقبال میلے میں شریک ہوسکیں اور جو اقبال میلےمیں شریک ہیں ، ان کا لطف دوبالا ہوسکے۔
اب ملاحظہ کیجیے یہ شاہکار نظم :
——
سج گیا گیارہ دَرِی ایوان
دیدنی ہے اِقبالستان
——
ہاں، افکار سے روشن ہیں
بام و دیوار و دالان
——
جشن بپا اقبال کا ہے
دیکھ لو آ کر چولستان
——
بسم اللہ سَت بسم اللہ
سُن کر جی اُٹھّے مہمان
——
دونوں جہاں میں کام آئے
خیر کا ہے ہر اِک سامان
——
دولت ِ عرفاں ہاتھ آئی
تُم نے کی شرح ِ قرآن
——
حُب ِ رسول ِ پاک ملی
یہ بھی کیا ہم پر احسان
——
بدلا خواب حقیقت میں
مل گیا ہم کو پاکستان
——
سوچ اقبال کی آفاقی
دُنیا ہے رَطبُ اللِّسان
——
تھام لو اللہ کی رَسّی
وحدت کا ہے یہ سامان
——
کُھل گئے ہیں اَسرار ِ خودی
تازہ ہو گیا ہے ایمان
——
پھوٹ رہی ہیں روشنیاں
راہ نُما ہے ہر فرمان
——
اِک اِک لفظ میں ہے دیکھو
معنی کے کتنے ہی جہان
——
دعوت ِ فکر ہی ملتی ہے
مخزن ِ حکمت ہے دیوان
——
آج بہاول پور میں ہے
اپنا شاعر ِ پاکستان
——
کام کریں گے رَل مِل کر
باندھ لیا ہے یہ پیمان
——
ہم اقبال کے پیرو کار
ہم یکجا ہیں ، ہم یکجان
——
کہتا ہے تُم میرے ہو
ہر مرد و زن ، پیر و جوان
——
سوچو بنایا ہے ہم نے
کیا اقبال کا پاکستان
——
کیا ہمّت سے کام لیا ؟
کیا ہم عزم کی ہیں چٹّان
——
جاگ اُٹھا احساس ِ زیاں
یہ اقبال کا ہے فیضان
——
رُخ تاریخ کا بدلے گا
ٹَل جائے گا ہر طُوفان
——
کام کرو سب رَل مِل کر
یہ اقبال کا ہے فرمان
——
سمجھو پیام ِ مشرق کو
ہوگی ہر مشکل آسان
——
دُکھ اقبال کو پہنچا ہے
یکجہتی کا ہے فقدان
——
بو کے پسینہ دیکھو تو
سونا اُگلیں گے کھلیان
——
سُن لو،ہر کوئی کرتا ہے
بر سر ِ ِ محفل یہ اعلان
——
بابا جانی تُم میرے ہو
تُم ہو میرا مان سمّان

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ