موجوں کا سانس ہے لبِ دریا رکا ہوا

شاید ابھر رہا ہے کوئی ڈوبتا ہوا بیٹھا ہے عشق یوں سرِ منزل تھکا ہوا رستے میں جیسے کوئی مسافر لٹا ہوا کچھ دن سے رنگِ روئے جفا ہے اڑا ہوا اے خونِ آرزو تری سرخی کو کیا ہوا کیا منزلت ہے اپنی سرِ آستانِ دوست جیسے ہو راہ میں کوئی پتھر پڑا ہوا آنکھوں […]

جو تم ٹھہرو تو ہم آواز دیں عمرِ‌ گریزاں کو

ابھی اک اور نشتر کی ضرورت ہے رگِ جاں کو کبھی ہم نے بھی رنگ و نور کی محفل سجائی تھی کبھی ہم بھی سمجھتے تھے چمن اک رُوئے خنداں کو کبھی ہم پر بھی یونہی فصلِ گل کا سحر طاری تھا کبھی ہم بھی جنوں کا حق سمجھتے تھے گریباں کو کہیں ایسا نہ […]