عمیر نجمی کا یوم پیدائش

آج جدید عہد کے نامور غزل گو شاعر عمیر نجمی کا یوم پیدائش ہے ۔ (پیدائش: 2 ستمبر 1986ء ) —— عمیر نجمی کے نام سے شہرت پانے والے محمد عمیر 2 ستمبر 1986 کو پنجاب کے خوب صورت شہر رحیم یار خان میں پیدا ہُوئے آپ کی تعلیم بی ایس سی آرکیٹیکچرل انجینئرنگ یو […]

سوئی قسمت کو بہ ایں طور جگاتا آقا

مصحفِ زیست کو مدحت سے سجاتا آقا کارِ توصیف سےبنتی ہے ہر اک بات مری اور کوئی مجھ کو ہنر بھی نہیں آتا آقا یہ فقط نسبتِ نوری سے ہوا ہے افضل اخضری رنگ جو نظروں کو ہے بھاتا آقا خواہشِ دیدِ حرم بہتی ہے جب آنکھوں سے نقشِ نعلین ہوں آنکھوں سے لگاتا آقا […]

اُن سے کرتا ہوں کربِ ہجر بیاں

روز دیتا ہے میرا عشق اذاں مخزنِ لطف ہے وہ شہرِ کرم جس کے صدقے بنے ہیں کون و مکاں حکمِ لَاتَرْفَعُوا کی جا ہے یہی شور اُن دھڑکنوں کا روک یہاں ہالۂ نور میں ہے شہرِ نبی سبز گنبد ہے دیکھ نور فشاں خواہشِ دید پیش کیسے کروں دل لرزتا ہے مثلِ برگِ خزاں […]

قصرِ خلد اپنے لیے اس طرز سے تعمیر کر

بھیج کچھ تحفے درودی نعت کی تدبیر کر خواب میں پیشِ مدینہ خود کو دیکھا تھا شہا کرنے والے اب مرے اس خواب کی تعبیر کر کشورِ نظم و غزل پر حکمرانی کے لیے نعت کی تمہید سے شہرِ سخن تسخیر کر جگمگاتا نورِ عشقِ مصطفٰی پاؤ گے تم جب بھی چاہو دیکھ لو قلبِ […]

وہ بے سایہ ہیں اور سایہ ہے اُن کا سب جہانوں میں

شبِ اسری وہی جلوہ نما تھے آسمانوں میں بہ صد شوق آ پڑا ہوں آپ کے دربارِ عالی پر وسیلہ آپ کا درکار ہے دونوں جہانوں میں جھکا جاتا ہے دل سجدے میں کیف و لطف کے باعث اذانِ عشق کی آئے صدا جب میرے کانوں میں سراہیں جس قدر قسمت کو اپنی اس قدر […]

نقشِ اسمِ مصطفیٰ پر میں فدا ہوتا رہا

اور نزولِ نعت مجھ پر بے بہا ہوتا رہا آیۂ فَلْیَفْرَحُوْا کے مُتَّبِع جو بھی رہے مقصدِ تخلیقِ جاں اُن کا ادا ہوتا رہا سطوتِ شاہی کو چھوڑا اُس نے پھر اک شان سے جو شہنشاہِ مدینہ کا گدا ہوتا رہا نعت گوئی ہے سعادت زورِ گفتاری نہیں یہ کرم جس پر ہوا ، ہوتا […]

خیالِ شہرِ کرم سے یہ آنکھ بھر آئے

جو عکسِ گنبدِ اخضر کہیں نظر آئے مچل کے ہجر کے بندے کا دل کرے فریاد کرم ہو کاسہ بہ کف آپ کے نگر آئے بس ایک میم ہی لکھا تھا بہرِ نعتِ نبی حروف جیسے ورق در ورق نکھر آئے دعاے خیر تھی ڈھارس جو عشق کے بندے پُلِ صراط سے اک جست میں […]

نور کی ڈور سے ہم لعل و گُہر باندھتے ہیں

مصرعِ نعت بہ صد شوق اگر باندھتے ہیں بر سرِ عرش نہ کیوں شادی رچے، آج کہ آپ جانبِ قصرِ دنیٰ رختِ سفر باندھتے ہیں ہے رسد گنبدِ خضریٰ سے شب و روز اُنھیں روشنی کا جو سماں شمس و قمر باندھتے ہیں ٹکٹکی آپ کے دربار کی جالی پہ شہا بہرِ دیدار مرے دیدۂ […]