خدا کرے کہ مرا عجزِ فن رہے قائم
کھلے نہ حال مرے آنسوؤں کے بہنے کا
معلیٰ
کھلے نہ حال مرے آنسوؤں کے بہنے کا
صحنِ گلشن میں ہی نغماتِ عنادل ڈوبے
چلیے لیکن ساتھ جہاں تک جا سکتے ہیں
وہ خود بھی ویسا نہیں ہے ان دنوں ہر ستم چپ چاپ سہہ لیتے ہیں لوگ جیسے کو تیسا نہیں ہے ان دنوں
ابھی سے اپنی حالت دیکھتا ہوں میں تجھ سے بے وفا کو بھول جاؤں مگر اپنی ضرورت دیکھتا ہوں
سامنے اُس کے میرا نام تو لے کر دیکھو
میلہ لگا ہے ، مرضی کا سودا خرید لو رستہ تمہیں نہ دے گی یہ تنہائیوں کی بھیڑ اک ہم سفر خرید لو ، سایا خرید لو اک پھول ، اک ڈھلکتے ہوئے اشک کے عوض چاہو تو میرے پیار کی دنیا خرید لو بھاؤ بتا رہی ہے یہی بانسری کی تان جاں دے سکو […]
کشتی کو سنبھالو کہ پھر امکان وہی ہے مائل وہ ہوئے بھی ہیں تو کس طرح میں جانوں یارو درِ دولت پہ تو دربان وہی ہے اس دور کے انساں پہ نئی رائے نہ تھوپو اچھا یا برا جیسا ہے انسان وہی ہے اس بار بہاروں میں کمی تو نہ تھی لیکن گلشن کے مہک […]
اک شخص بڑی دیر سے پہچان رہا ہے کیا جانیے کس شے نے اسے کر دیا محتاط دل عقل پہ اس بار نگہبان رہا ہے کیا جانیے ، ہے عشق میں کون سی منزل اس بار بچھڑنا بہت آسان رہا ہے خوشبو ہے کہ اب تک نہیں جاتی مرے گھر سے اِک رات مرے گھر […]
ظفر لوگوں کے جیون سے نکلتا جا رہا ہوں بہت آساں بہت جلدی سفر ڈھلوان کا ہے سو پتھر کی طرح پگ پگ اچھلتا جا رہا ہوں کھنچا جاتا ہوں یوں اگلے پڑاو کی کشش میں تھکن سے چور ہوں میں پھر بھی چلتا جا رہا ہوں ہنر اس کھوکھلی دنیا میں جینے کا یہی […]