اولیں صفتِ صناع ، رسولِ قرشی

ہے جو مکی ، مدنی ، ہاشمی و مطلبی جس کا دین پیکرِ ہستی کی حیاتِ نو ہے جس کے آئیں میں برابر عربی و حبشی جس پر نازل کیا قرآنِ مبیں خالق نے اس سے انکار جو کرتا ہے ، وہ ہے بولہبی مثل اُس کا نہ سرِ عرش ، نہ بالائے زمیں ہے […]

درود پڑھتا ہوا نعت گنگناتا ہوا

مچل رہا ہے مرا دل مدینے جاتا ہوا حضور آپ کی مدحت کے راستے پر ہوں بڑے قرینے سے اپنے قدم اٹھاتا ہوا اگرچہ پاؤں برہنہ ہیں پھر بھی جاتا ہوں مدینہ شہر کی جانب میں مسکراتا ہوا عجب نہیں کہ اندھیروں سے پار ہو جاؤں قدم قدم پہ دیے نعت کے جلاتا ہوا حضور […]

ذکر اتنا مرے حضور کا ہے

وَرَفَعنا مرے حضور کا ہے گونجتا ہے جو ہر گھڑی مجھ میں اک ترانہ مرے حضور کا ہے مجھ پہ لازم ہے احترام اس کا جو دوانہ مرے حضور کا ہے روشنی جس کو لوگ کہتے ہیں مسکرانا مرے حضور کا ہے دل مرا اس لیے مہکتا ہے دل میں آنا مرے حضور کا ہے […]

تیرگی ذکرِ شہِ دین سے مر جاتی ہے

روشنی میرے خیالات میں بھر جاتی ہے صرف اسلام کا رستہ ہے وہ روشن رستہ زندگی جس پہ توازن سے گزر جاتی ہے اس لیے مجھ پہ شب و روز کرم ہے اُن کا دلِ بے تاب کی طیبہ میں خبر جاتی ہے ذکرِ سرکار کی لذّت ہے میسّر ہم کو رات کانٹوں پہ بھی […]

ایک رستہ دکھائی دیتا ہے

بس مدینہ دکھائی دیتا ہے دیکھ لیتا ہوں آپ کے جلوے مجھ کو جتنا دکھائی دیتا ہے یہ فلک اُن کے پاک منبر کا پہلا زینہ دکھائی دیتا ہے اُن کی رحمت کا اُن کی عظمت کا ہر سو قبضہ دکھائی دیتا ہے خاکِ طیبہ سے لپٹا ہر منظر مجھ کو اُجلا دکھائی دیتا ہے […]

خود کو سنّت سے با لبادہ کر

اُن کی سیرت سے استفادہ کر مصطفٰی کی بتائی راہ پہ چل اپنی طرزِ حیات سادہ کر اُن کے رستے پہ چشمِ تر کو لگا دل درِ مصطفٰی کا جادہ کر دیکھ ہر سو اُنھی کے جلوے ہیں آنکھ کو کھول دل کشادہ کر اُن کی یادوں سے تو نہ غافل ہو دل اُسی در […]

بوجھ سینے سے گناہوں کا اُتارا جائے

وقت آقا کی محبت میں گزارا جائے اُن کے مدّاحوں میں شامل ہے مرا نام و نسب بس اسی نام سے اب مجھ کو پکارا جائے آپ کے ذکر سے کھِل جائیں شگوفے دل میں یہ چمن آپ کی یادوں سے سنوارا جائے آپ کے ہجر میں یہ قلب حزیں رہتا ہے آپ کے قرب […]

دیکھنے والوں نے کیا کیا نہ کرشمہ دیکھا

نور میں ڈوبا ہوا شہر مدینہ دیکھا آپ کی یاد میں روتی ہوئی آنکھیں پائیں آپ کے ہجر میں جلتا ہوا سینہ دیکھا جیسے شبیرؓ نے اسلام کو جاں بخشی ہے تم نے دنیا میں کہیں ایسا نواسہ دیکھا زندگی اُن کی بتائی ہوئی رہ پر ڈالی اپنی بخشش کا فقط ایک ذریعہ دیکھا پھر […]

اُن کے نغمے جو گانے لگتے ہیں

اپنی قسمت بنانے لگتے ہیں گر تعاقب کرے کوئی مشکل مجھ کو آقا بچانے لگتے ہیں نعت سنتے ہی کچھ منافق لوگ اپنے چہرے چھپانے لگتے ہیں نیند میں جب درود پڑھتا ہوں خواب طیبہ کے آنے لگتے ہیں رشک آتا ہے حاجیوں پر ، جب قافلے حج پہ جانے لگتے ہیں یہ گھڑی دو […]

چاہے جیسے بھی ہوں حالات لکھی جائے گی

ہر گھڑی آپ کی ہی نعت لکھی جائے گی عمر بھر آپ کی لکھتے رہیں باتیں پھر بھی غیر ممکن ہے کہ ہر بات لکھی جائے گی التجا کاتبِ تقدیر سے یہ کرتا ہوں کب مری اُن سے ملاقات لکھی جائے گی عقل و دانش کی کہیں پر بھی کوئی بات ہوئی اُن کی دہلیز […]