ہم غلامانِ محبت اسے کیا جانیں بھلا
دِیر کہتے ہیں کسے اور ہے کعبہ کیسا
معلیٰ
دِیر کہتے ہیں کسے اور ہے کعبہ کیسا
دیکھنا تھا جس کو وہ دیکھا نہیں
پروردگار تجھ میں جو بخشش کی خُو نہ ہو
ساتھی وہ میرا برسوں سے ہر راستے کا تھا
قاتل کا یہ کمال و ہنر دیکھتے رہے
جب عرش پر فرشتوں نے سجدہ کیا مجھے
مرا پیکر حقیقت میں مرا پیکر نہیں ہوتا مکمل ہاں مکمل صبر کا دفتر نہیں ہوتا پیمبر کے شکم پر گر کوئی پتھر نہیں ہوتا سکوں کی نیند سو رہتے ہیں جو فٹ پاتھ پر ان کو غمِ بستر نہیں ہوتا ، غمِ چادر نہیں ہوتا نظر دوڑاؤ اور حالات کی بے چینیاں دیکھو جو […]
بجلی گری تڑپ کے دلِ بیقرار پر
پشت پر میرے گناہوں کے ہے رحمت اس کی
اب کہاں لے کے مجھے جائے گی وحشت میری