عیاں ہے سب میں کہاں ہے مخفی کب اس کا جلوہ نقاب میں ہے
قصور اپنی نگاہ کا ہے وگرنہ کب وہ حجاب میں ہے
معلیٰ
قصور اپنی نگاہ کا ہے وگرنہ کب وہ حجاب میں ہے
کچھ نہ کچھ بات رقیبوں نے بنائی ہو گی
رنگ شاہد ہے شکست توبہ کی آواز کا
گر ایک بلا وہ ہے تو ہیں ایک بلا ہم تقدیر پہ شاکر رہے راضی برضا ہم اب کس کی شکایت کریں اور کس کا گلا ہم
سر کے بل جاتا ہوں تب سے کوئے جاناں کی طرف
محفل میں اگر مجھ سے نہ شرماؤ تو آؤں کیا گھر میں تمھارے در و دیوار کو دیکھوں تم اپنی جو صورت مجھے دکھلاؤ تو آؤں
سو گالیاں ہمیشہ سنیں اک دعا کے ساتھ
مصر میں جیسے غبارِ کارواں پھرنے لگے
ڈر نہیں ہم سے اگر اب آسماں پھرنے لگے
سنگِ موسیٰ ہو اگر لوں سنگِ مرمر ہاتھ میں تیرے دیوانے کے پیچھے کیا ہے لڑکوں کا ہجوم کچھ ہیں پتھر جھولیوں میں ، کچھ ہیں پتھر ہاتھ میں