وہ مکدر ہوا ہے دل اس کا
کوئی صورت نہیں صفائی کی ڈوب جانے میں کیا رہا باقی آپ سے جب کہ آشنائی کی
معلیٰ
کوئی صورت نہیں صفائی کی ڈوب جانے میں کیا رہا باقی آپ سے جب کہ آشنائی کی
فریاد یہ کرتے ہیں غلامانِ محمد میں اپنے گناہوں کو چھپاؤں گا اُسی میں آ جائے جو ہاتھوں میں وہ دامانِ محمد میں اُن کی بتائی ہوئی راہوں پہ چلوں گا قرآن ہے میرے لیے فرمانِ محمد واقف نہیں جنت کے مکیں دورِ خزاں سے پھولوں سے لَدا ہے وہ گلستانِ محمد وہ چھاؤں میں […]
مشکل کو حل کریں گے وہ مشکل کشا جو ہیں ہر اُمتی کے گھر میں اُجالا ضرور ہے اُمت کے خیر خواہ وہ نُورِ خدا جو ہیں کشتی میں جا رہا ہوں زمینِ حجاز پر حافظ خدا ہے ساتھ وہ صلِ علیٰ جو ہیں ناصرؔ نہ ڈر کہ تیری شفاعت کریں گے وہ محشر میں […]
محمد مصطفیٰ کی آرزو کر لوں مگر پہلے میں اشکوں سے وضو کر لوں بہت روضے کو دیکھا ہے تصور میں میں اپنے آپ کو بھی روبرو کر لوں مجھے بھی عشق ہے محبوب سے تیرے اجازت ہو تو میں بھی جستجو کر لوں مجھے روضے پہ اے دل حوصلہ دے دے میں اُن سے […]
بلا کے روضے پہ مجھ کو بھی سرفراز کرے وہ خوش نصیب جو گھر سے خدا کے آیا ہے اُسے کہو کہ وہ جتنا بھی چاہے ناز کرے میں اِک نماز میں سب کچھ خدا سے لے لوں گا اگر قبول جو مولا مری نماز کرے میں روز پھول نچھاور کروں گا روضے پر مرے […]
منہ پر مَلی ہوئی مرے مکے کی دھول ہو تخلیق مجھ سے ایسی بھی نعتِ رسول ہو میرے حضور کو بھی جو دل سے قبول ہو ہو جاؤں غرق میں بھی محمد کے عشق میں میرے لہو میں ایسا جنوں بھی حلول ہو جا کر جسے حضور کے روضے پہ رکھ سکوں ناصرؔ ہمارے باغ […]
سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے
تو بھی تو کبھی پھول چڑھانے کے لیے آ
جس سے لگے نہ ٹھیس مرے اعتبار کو
مگر وہ جام میں دیکھو اُتر گیا یارو