منزل کہاں خیال کی دِیر و حرم کہاں
پہنچے تلاشِ یار میں اپنے قدم کہاں
معلیٰ
پہنچے تلاشِ یار میں اپنے قدم کہاں
بادہ کشوں میں بٹ گیا پیرِ مغاں کا پیرہن
ساز مرا لطیف ہے ، نغمہ ترا لطیف تر
قصوں سے اہلِ دل کے مری داستاں ملے
ایک ہی ساقی تھا جو میخانہ در میخانہ تھا
کہ میرے دوست کا احساں ہے زندگی میری
دل ہی کھینچے لیے جاتا ہے سرِ راہ گزار
حرم و دِیر کی تفریق مٹا دے ساقی
ساری زمیں ہے میرا گھر ، سارا جہاں میرا وطن
دِیر ملے تو سر جھکا ، کعبہ ملے سلام کر