حسن سے بھی سوا ہے کچھ عشق کی روشنی ہمیں
وہ ہے چراغِ انجمن ، یہ ہے چراغِ رہ گزر
معلیٰ
وہ ہے چراغِ انجمن ، یہ ہے چراغِ رہ گزر
عشق ملا قدم قدم ، حسن ملا نظر نظر
وہم و گماں ازل میں تھی ، وہم و گماں ہے آج بھی
بقا کے لیے میں فنا چاہتا ہوں
مطلوب وہی کعبۂ مقصود وہی ہے غیر کہاں صنم کدے میں موجود معبود بھی خود وہی ہے مسجود وہی
نہ زباں اہل ہے میری نہ دل اس قابل ہے چھوٹا منہ اور بڑی بات ارے توبہ توبہ تو کہاں میں کہاں تو حق ہے بشر باطل ہے تو ہے وہ ذات کہ اپنے آپ پہ ہے ناز تجھے میں وہ انسان جو خود اپنے سے بھی بیدل ہے تیرے علموں کی حدیں راز ترے […]
احباب سے یک دلی نہ چاہی ہم نے غم کھا کے رہے کہ فقر بدنام نہ ہو یہ عمر عزیزؔ یوں نباہی ہم نے
اور ہمت دوں سے یا الٰہی توبہ تقلید ہوائے نفس اور امید نجات اس جوش جنوں سے یا الٰہی توبہ
ایک ایک کی وضع اور مروت دیکھی دل میں کچھ ہے زباں پر کچھ ہے عزیزؔ آنکھیں کھلیں جب سے کہ حقیقت دیکھی
قوالی کی تاریخ سید فخرالدین بلے کےقول ترانے اور ان کے خوبصورت "رنگ” کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے اور ادھوری رہے گی۔بڑے بڑے علماء، مشائخ ، ادیبوں، نقادوں اور دانشوروں نے امیر خسرو کے سات سو سال بعد تخلیق کئے گئے سید فخرالدین بلے کے "رنگ” کو تخلیقی معجزہ ،قابل ِ ستائش کارنامہ اور […]