قمر جمیل کا یوم پیدائش

آج معروف شاعر، نقاد اور ادیب قمر جمیل کا یوم پیدائش ہے (پیدائش: 10 مئی، 1927ء – وفات: 27 اگست، 2000ء) —— نام قمر احمد فاروقی اور تخلص جمیل تھا۔۱۰؍ مئی ۱۹۲۷ء کو حیدرآباد(دکن) میں پید اہوئے ۔ان کا آبائی وطن سکندرپور، ضلع بلیا (یوپی) ہے۔الہ آباد سے انٹر اور عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد سے بی […]

وہ شہنشاہ معظم، وارث تاج و سریر

سرنگوں ہے جس کے آگے سطوت میر و وزیر اُس کی مدحت سے مرے دل کو توانائی ملی اُس کی سیرت نے کیا زندہ مرا مردہ ضمیر سادگی محبوب ہے جس کو رسول اللہ کی ہیچ ہے اُس کے لیے ملبوس کمخواب و حریر رہبر گم کردہ راہاں، چارہ بے چارگاں بے نواؤں کی نوا، […]

نہ قصر شاہ، نہ دربار کجکلاہ میں ہے

قرارِ جاں مرے آقا کی بارگاہ میں ہے سرورِ دل وہ کسی اور انجمن میں کہاں جو تاجدار مدینہ کی جلوہ گاہ میں ہے گل و سمن میں نہ مشک ختن میں وہ تاثیر جو سرزمین مدینہ کی خاک راہ میں ہے کہاں ملے گا کسی اور کی نظر سے مجھے نشاطِ جاں کا جو […]

سرورِ عالمیاں، فخر سلاطین جہاں

جس کی امی لقبنی پر ہو بلاغت قرباں جس کے ابلاغ نے بخشا ہے صداقت کا شعور جس کے ادراک سے ہوتا ہے خدا کا عرفاں جس کے انوار سے ظلمت کو ملے تابانی جس کے افکار نے انساں کو دیا عزمِ جواں ناطق وحی و بیاں ہے وہ رسولِ اکرم آسمانوں سے ہوا جس […]

اسلم انصاری اور سید فخرالدین بلے ، داستانِ رفاقت

پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری عصر حاضر کے ایک ممتاز محقق اور قادرالکلام شاعر ہیں۔ والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے اور ڈاکٹر اسلم انصاری کی تعلق داری ٗ دوستانہ روابط اور مراسم بلکہ رفاقت کا سلسلہ کب اور کیسے شروع ہوا اس حوالے سے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے البتہ پورے وثوق سے ضرور کہہ […]

ترے فراق کا غم ہے مجھے نشاط انگیز

یہی ہے راہرو شوق کے لیے مہمیز اِسی کے نم سے ہے باقی مری نگاہ کا نور اِسی کے سوز سے ہے ساز دل نوا آمیز اِسی کا جذب خوش آہنگ ہے نظر میں کہ آج مرا کدو ہے مئے سلسبیل سے لبریز یہی ہے نغمہ، دل افروز ساز جاں کے لیے اِسی سرود سے […]

یوں نہ ہو میرا شبستان مقدر روشن

لکھنے بیٹھا ہوں میں توصیف شہنشاہ زمن وہ شہنشاہ جہاں جس کے تبسم پہ نثار لالہ و گل کی مہک ،سنبل و سوسن کی پھبن مستند ہے فصحا کے لیے ہر قول اُس کا گفتگو جس کی حکم، جس کا سخن مستحسن ہے پنہ گاہ غریب الوطناں شہر اُس کا اُس کا دربار ہے سب […]

اُس کی الفت سے مزین ہے مرے دل کا ورق

وہ رسول عربی، ہادی دین برحق میرے ایماں کا صحیفہ ہے مرتب اُس سے جس میں ابہام ہے کوئی، نہ مضامین ادق وہ بلاغت کا سمندر، وہ فصاحت کا جہاں وہ کہ ہے کاشف مفہوم کلام مغلق لب اظہار جو ہو اُس کی صداقت پہ گواہ سن کے کفار بھی بے ساختہ کہہ دیں، صدق!، […]

کس طرح کروں میں تیری توصیف رقم

عاجز ہے مری زباں، شکستہ ہے قلم تو حامد و احمد و حمود و محمود تو کامل و اکمل و کریم و اکرم کرتے ہیں تری گلی میں جاروب کشی خاقان و فغفور ہوں یا خسرو و جم تیرے خدام، تیرے نوکر چاکر شاہانِ جہاں سے بڑھ کے ہیں اہل حشم پندار کے بت ٹوٹ […]

میں بھی لکھوں نعت رسول کبیر

جس کا ثنا گو ہے خدائے قدیر کرتا رہوں مدح و ثنائے حضور طائر سدرہ ہو مرا ہم صفیر جب ہو رواں موج درود و سلام زینت قرطاس ہو لحن صریر خوش سخن و خوش دہن و خوش بیاں خوش نظر و خوش خبر و خوش ضمیر زلف سیہ اُس کی ہے عنبر فشاں چہرہ […]