مدحِ آقا کی تڑپ دل میں لیے

مدحِ آقا کی تڑپ دل میں لیے میں اچھوتے لفظ، نادر صوت پاکیزہ خیال اپنے رب سے مانگتا ہوں روزو شب اور پھر ہوتا ہے قلبِ مضطرب کو یہ یقیں مجھ پہ ہوگا مہرباں ربِّ قدیر اور بخشے کا وہ لہجہ مدحِ آقا کے لیے جس میں نورِ صدق سوزِقلب تنویرِخیال و فکر کی سب […]

مالکِ بحر و بر بھی تو، خالقِ خشک و تر بھی تو

تیرا جمال ہی عیاں، قریہ بہ قریہ، کو بہ کو شام و سحر ہے فکر کو صرف تری ہی جستجو تیرے فراق ہی میں ہے ارض و سما کی ہا و ہو تیرے کرم پہ منحصر، فکر و خیال کی نمو کیسے ہو تیری معرفت، نفس ہے خود مرا عدو جبکہ ترا ظہور ہے نکتہ […]

ہوں منتظرِ ساعت، وہ چشمِ کرم اُٹّھے

میری بھی نگاہوں سے پردہ کوئی دم اُٹّھے اظہار کی ناکامی پر روز پشیماں ہوں ہر روز ہی آقا کی مدحت میں قلم اُٹّھے نادم ہو جو یہ عاصی سرکار کی محفل میں بخشش کے تصوّر سے، بادیدۂ نم اُٹّھے اُٹھ جائیں اگر پردے آنکھوں سے کبھی میری پُر شوق تقاضا ہو ہر بار کہ […]

یہ زمیں ، یہ آسماں ، سب رائگاں

نذرِ محمد علی منظر یہ زمیں ، یہ آسماں ، سب رائگاں دیکھ لے سارا جہاں ، سب رائگاں کیا سنائیں داستانِ رنگ و نور مور ، جگنو ، تتلیاں ، سب رائگاں واہمہ ہے یہ جہانِ ہست و بود ہے عدم ہی جاوداں ، سب رائگاں کہکشاں بر کہکشاں یہ کائنات ہے جہاں اندر […]

راہی معصوم رضا کا یوم وفات

آج معروف شاعر اور ناول نگار راہی معصوم رضا کا یوم وفات ہے (پیدائش: 1 ستمبر 1927ء – وفات: 15 مارچ 1992ء) —— راہی معصوم رضا: گنگا ، جمنی تہذیب کا علمبردار از تنویر احمد —— میرا نام مسلمانوں جیسا ہے مجھ کو قتل کرو اور میرے گھر میں آگ لگا دو۔ لیکن میری رگ […]

دوستوں کو دشمنوں کو بھول کر

اک ملن سب مسئلوں کو بھول کر اک پرانی یاد کو تازہ رکھا روزمرہ سانحوں کو بھول کر پوچھنا یہ ہے کہ ہجرت نصیب کیسے زندہ ہیں گھروں کو بھول کر اک نئی صورت کے دلدادہ ہوئے پچھلے سارے رابطوں کو بھول کر عشرتِ امروز میں گم گشتگی آنے والی ساعتوں کو بھول کر ٹوٹ […]

رہوں گر دور تجھ سے آتشِ فرقت جلاتی ہے

قریب آؤں تو تیرے سانس کی حدت جلاتی ہے تجھے چھو لوں تو جل اٹھوں ، نہ چھو پاؤں تو جلتا ہوں عجب نسبت ہے یہ جاناں ، بہ ہر صورت جلاتی ہے تجھے تھا چند ساعت میرے ساتھ دھوپ میں چلنا مجھے اب تک مرے احساس کی شدت جلاتی ہے کروں پرواز تو کھینچے […]

سمندر میں اترتے جا رہے ہیں

یہ دریا جو بپھرتے جا رہے ہیں ہواؤں کے مقابل ڈٹ گئے تھے سو، اب ہر سُو بکھرتے جا رہے ہیں اکائی کی وہی خواہش دلوں میں بدن دونوں ٹھٹھرتے جا رہے ہیں وہ چہرہ فتح میں کیسا لگے گا اسی نشے میں ہرتے جا رہے ہیں کتابِ وصل کی تکمیل کر کے حروف اس […]

نیند آتی کہاں ہے آنکھوں میں

رات ہر دم جواں ہے آنکھوں میں ہونٹ تو مسکراتے رہتے ہیں دولتِ غم نہاں ہے آنکھوں میں وہ بظاہر ذرا نہیں بدلی اجنبیت عیاں ہے آنکھوں میں ڈار سے کونج کوئی بچھڑی ہے وحشتوں کا سماں ہے آنکھوں میں ہم جہاں روز چھپ کے ملتے تھے وہ کھنڈر سا مکاں ہے آنکھوں میں آنکھوں […]