مہبطِ انوار ہے ان کا ٹھکانہ نور نور
کاش پھر سے دیکھ لوں وہ آستانہ نور نور اک ہمیں چودہ صدی کے فاصلے سہنے پڑے خوش مقدر تھے ملا جن کو زمانہ نور نور اذنِ مدحت سے بڑی آسودگی بخشی گئی مل گیا رزقِ سخن کا آب و دانہ نور نور میری بھی فردِ عمل میں کچھ تو ہو بہرِ نجات ہو عطا […]