معید مرزا کا یوم پیدائش

آج نوجوان شاعر معید مرزا کا یوم پیدائش ہے معید مرزا 18 دسمبر 1990 میں ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔ انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے 2010 – 2014 میں انجینئرنگ کی۔ آجکل شارجہ(متحدہ عرب امارات) میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں اور سول انجینئر کی جاب کررہے ہیں۔ معید مرزا نے شاعری کا آغاز […]

عرفانِ نعت ہے نہ ہی وجدانِ نعت ہے

لیکن ازل سے حسرت و ارمانِ نعت ہے حکمِ خداے پاک ہے مدحت رسول کی صلُّو علیہِ اصل میں اعلانِ نعت ہے طاعت نبی کی طاعتِ ربِ عظیم ہے الفت مرے کریم کی عنوانِ نعت ہے ہر اک خیالِ عالی کو پایا ہے نعت میں کتنا وسیع دیکھیے دامانِ نعت ہے سب پھول محوِ رقص […]

کچھ ایسے خلد کماتا ہوں نعت کہتا ہوں

گہر ثناء کے لٹاتا ہوں نعت کہتا ہوں نوازے جاتے ہیں پیہم مرے کریم مجھے کرم سمیٹتا جاتا ہوں نعت کہتا ہوں میں گلستانِ تخیل سے پھول چُن چُن کر انہیں حروف بناتا ہوں نعت کہتا ہوں سبھی کو آرزو ہوتی ہے گھر سجانے کی میں اپنی قبر سجاتا ہوں نعت کہتا ہوں مرا قبیلۂ […]

تصورات میں سرکار کے دیار میں ہوں

میں ہوش مند کبھی ہوں ، کبھی خمار میں ہوں پلک جھپکنے کا لمحہ گراں گزرتا ہے کہ مضطرب ہوں گہے اور گہے قرار میں ہوں فضاے کوے مدینہ میں جو کہ ہوتا ہے مرا نصیب تو دیکھو کہ اُس غبار میں ہوں فقط کرم ہے یہ اُن کا کہ نعت ہوتی ہے وگرنہ کیا […]

مبتدا کی دید کرتے ، منتہیٰ کو دیکھتے

کاش آسی ہم بھی شاہ انبیاء کو دیکھتے کاش ہو جاتا ہمارا اس زمانے میں جنم چومتے نعلین وجہِ والضحٰی کو دیکھتے ہم کو بھی ملتا نبی کے ساتھ ہجرت کا سرور ہم بھی طیبہ میں صداے مرحبا کو دیکھتے دین کے احکام بھی سنتے براہ راست ہم روز آنکھوں سے حبیبِ کبریا کو دیکھتے […]

شاد ہوں توفیقِ مدحِ مصطفیٰ جب سے ہوئی

یعنی مقصد شعر کا اُن کی ثنا جب سے ہوئی فکر کی پرواز تا بہ منتہا جانے لگی عظمتِ سرکار سے فہم آشنا جب سے ہوئی اس سے پہلے بھی یقیناً نور تھا سرکار کا خلق میں ہے کافِ کُن کی ابتدا جب سے ہوئی لکھ رہا ہے تب سے مدحِ مجتبٰی میرا قلم چاشنی […]

وسیلہ حق شناسی کا نبی کی ذات ہوتی ہے

نبی کا فعل ہوتا ہے ، نبی کی بات ہوتی ہے ثنائے سرور کونین میں مشغول رہتا ہوں خدا کا فضل اور تائید میرے ساتھ ہوتی ہے قلم جب بھی اُٹھاتا ہوں شہِ ابرار کی خاطر مرے اطراف میں انوار کی برسات ہوتی ہے مرے فکر و تخیل اور مرے الفاظ پر رحمت کی جب […]

مرے مولا، مرے خالق ، مرے غفار حاضر ہوں

خطاؤں کا لیے سر پر میں اک انبار حاضر ہوں تو اپنے فضل سے تبدیل قلبِ پر معاصی کر میں اس کی عادتِ عصیاں سے ہوں لاچار حاضر ہوں طفیلِ مصطفیٰ توفیق دے مجھ کو بھلائی کی عطا کر صدقۂ ذاتِ شہِ ابرار ،حاضر ہوں مرے ہر اک عمل میں تُو فقط اپنی رضا رکھ […]

میں حمدِ باری کروں تو کیسے ثناء کے قابل زباں نہیں ہے

لبوں پہ میرے ہیں لفظ لیکن خیال عالی بیاں نہیں ہے ہر ایک شے میں تری نمو ہے ، جدھر بھی دیکھوں بس ایک تو ہے جہاں میں ہر سو ترے ہی جلوے ، نہیں وہ جا تو جہاں نہیں ہے ترا ہی حامد ہر اک شجر ہے ، ترا ہی ذاکر حجر حجر ہے […]

چہرہ ہے کہ انوارِ دو عالم کا صحیفہ

آنکھیں ہیں کہ بحرینِ تقدس کے نگیں ہیں ماتھا ہے کہ وحدت کی تجلی کا ورق ہے عارِض ہیں کہ ”والفجر“ کی آیت کے اَمیں ہیں گیسو ہیں کہ ”وَاللَّیل“ کے بکھرے ہوئے سایے ابرو ہیں کہ قوسینِ شبِ قدر کھُلے ہیں گردن ہے کہ بَر فرقِ زمیں اَوجِ ثریا لب، صورتِ یاقوت شعاعوں میں […]