رشکِ افلاک ذات ہو جائے
حرزِ جاں اُن کی بات ہو جائے چشمۂ آبِ نعت جاری ہو کچھ سخن کی زکوٰۃ ہو جائے اُن کی چشمِ کرم کی جنبش سے ذرہ بھی کائنات ہو جائے میرا سینہ مدینہ ہو ، ایسی قلب پر واردات ہو جائے پھول چومیں کنارۂ لب کو وردِ لب جب صلوٰۃ ہو جائے لمحۂ مرگ کے […]