سید نفیس الحسینی کا یوم وفات

آج پاکستان کے نامور خطاط، شاعر ،عالم دین اور معروف روحانی شخصیت علامہ سید نفیس الحسینی نفیس رقم کا یوم وفات ہے۔ (پیدائش: 11 مارچ 1933ء – وفات: 5 فروری 2008ء) —— سید نفیس الحسینی کا اصل نام سید انور حسین تھا اور وہ 11 مارچ 1933ء کو ضلع سیالکوٹ موضع گھوڑیالہ میں پیدا ہوئے […]

جرم محمد آبادی کا یومِ پیدائش

آج معروف شاعر جرم محمد آبادی کا یومِ پیدائش ہے (پیدائش: 4 فروری، 1903ء- وفات: 15 جنوری، 1980ء) —— جناب جرم محمد آبادی کی ولادت 4 فروری 1903 میں ہوئی ۔ ہوش سنبھالا تو مشرقی طرزِ تعلیم شروع ہوئی ۔ مولانا محمد ہارون صاحب قبلہ مرحوم مصنف علوم القرآن ایسے فاضل جیّد کے درس میں […]

باقر نقوی کا یوم پیدائش

آج معروف شاعر، ادیب، مترجم اور محقق باقر نقوی کا یوم پیدائش ہے۔ (پیدائش: 4 فروری، 1936ء- وفات: 13 فروری، 2019ء) —— سید محمد باقر نقوی المعروف باقر نقوی 4 فروری 1936ء کو الہ آباد اترپردیش میں پیدا ہوئے۔ پیدائشی نام سید محمد باقر نقوی رکھا گیا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم الہ آباد سے حاصل […]

بانو قدسیہ کا یوم وفات

آج اردو کی مشہور ناول نویس، افسانہ نگار اور ڈرامہ نگار محترمہ بانو قدسیہ کا یوم وفات ہے۔ (ولادت: 28 نومبر 1928ء – وفات: 4 فروری 2017ء) —— بانوقدسیہ بھی اپنے اشفاق احمد کے پاس چلی گئیں، 88 سال کی بھرپور زندگی گزارنے کے بعد بانو قدسیہ کا 4 فروری 2017 کو لاہور میں انتقال […]

یاس یگانہ کا یومِ وفات

آج نامور شاعر میرزا یاس یگانہ ‘ غالب شکن’ کا یومِ وفات ہے۔ (پیدائش: 17 اکتوبر 1884ء – وفات: 4 فروری 1956ء) —— یاس یگانہ کا نام تو بہت ہی طویل ہے ،یعنی مرزا واجد حسین یاس یگانہ چنگیزی لکھنوی ثم عظیم آبادی، لیکن اُن کو اپنے یکتا ہونے کا احساس تھا، اسی لیے اُنھوں […]

مخدوم محی الدین کا یومِ پیدائش

آج ممتاز شاعر مخدوم محی الدین کا یومِ پیدائش ہے ۔ (پیدائش: 4 فروری، 1908ء- وفات: 25 اگست، 1969ء) —— مخدوم محی الدین : فن اور شخصیت کے آئینے میں ، رؤف خلش —— مخدوم محی الدین کا نام ایک انقلابی اُردو شاعر اور ایک سیاسی رہنما دونوں حیثیتوں سے ممتاز اور نمایاں ہے۔ اگر […]

وقت جیسے کٹ رہا ہو جسم سے کٹ کر مرے

کوئی مرتا جا رہا ہے جس طرح اندر مرے اب مری وحشت تماشہ ہے تو ایسے ہی سہی اب تماشائی ہی بن کے آ ، تماشہ گر مرے روکتا ہی رہ گیا کہ عشق کو مت چھیڑنا یہ بلا بیدار ہو کر آن پہنچی سر مرے پھونک دی نہ روح آخر تم نے اندیشوں میں […]

تھک ہار کے دم توڑ دیا راہ گذر نے

کیا روپ نکالا ہے جواں ہو کے سفر نے میں زخم کی تشہیر نہیں چاہتا ورنہ شہکار تراشہ ہے ترے دستِ ہنر نے میں کون سی تاویل گھڑوں اپنی بقاء کی تم کو چلو روک لیا موت کے ڈر نے پھر شہر رہا ، یا نہ رہا روئے زمیں پر دیکھا نہ پلٹ کر بھی […]

اب اُس کی آرزو میں نہ رہیئے تمام عمر

یعنی کہ یہ عذاب نہ سہیئے تمام عمر آخر اُتر پڑے تھے پہاڑوں سے کس لیئے اب دشتِ بے امان میں بہیئے تمام عمر وہ سرسری سی بات اداء جب نہیں ہوئی ایسی غزل ہوئی ہے کہ کہیئے تمام عمر وہ جا چکا ہے جس کو نہ جانا تھا عمر بھر اب آپ اپنے زعم […]

کارِ عبث رہی ہیں جنوں کی وکالتیں

کب سن رہی تھیں محض حقیقت عدالتیں پاؤں کہ چادروں سے ہمیشہ نکل گئے پوشاک کی بدن سے رہیں کم طوالتیں تم ہو رہے ہم سے مخاطب تو کم ہے کیا اب کیا بیان کیجے شکستوں کی حالتیں اب ہیں نصیبِ زعمِ محبت ، ہزیمتیں اب خواہشوں کا آکر و حاصل خجالتیں پلتے رہے ہیں […]