دعائیں مانگیں ہیں مدتوں تک جھکا کے سر ہاتھ اٹھا اٹھا کر

ہوا ہوں تب میں بتوں کا بندہ خدا خدا کر خدا خدا کر دعا لب جام نے بھی مانگی سبو نے بھی ہاتھ اٹھا اٹھا کر ہماری محفل میں آیا ساقی خدا خدا کر خدا خدا کر دکھایا وحدت نے اپنا جلوہ دوئی کا پردہ اٹھا اٹھا کر کروں میں سجدہ بتوں کے آگے تو […]

ہر اِک تخلیق کے من کی صدا اللہ الف اللہ

سبق پہلا جو بچپن میں پڑھا اللہ الف اللہ فنا ہر شے کی بس تیری بقا اللہ الف اللہ تری جاگیر ہیں ارض و سما اللہ الف اللہ گرج میں بادلوں کی یہ سُنا اللہ الف اللہ خموشی میں ستاروں کی ندا اللہ الف اللہ یہی سبزے پہ شبنم نے لِکھا اللہ الف اللہ ہر […]

مدحت ہو تری کیسے کہ دشوار بیاں ہے

محدود مری سوچ تو محدود زباں ہے جب سے ہے مرا رابطہ اُس شاہِ اُممؐ سے پُرنور مرا دل ہے، منور مری جاں ہے طیبہ میں رہوں موت اُسی شہر میں آئے بس اِک یہی ارمان مرے دل میں نہاں ہے ڈھلنے لگے جذبات مرے نعت کی صورت ہے ذکر ترا اور مرے اشکوں سے […]

لفظ لکھوں جو بھی ، ہو وہ نعت کا صلّیِ علیٰ

تذکرہ ہو آپ کی ہی ذات کا صلّیِ علیٰ راستے سارے مدینے کی طرف ہوں گامزن دن کا ہو یا پھر سفر ہو رات کا صلّیِ علیٰ کیا مقامِ مصطفی ہے ؟ جانتا ہے بس خدا علم کس کو آپ کے درجات کا صلّیِ علیٰ یہ سبھی مخلوق دنیا کی ازل سے آج تک کھا […]

رات ڈھلتی رہی ، بات ہوتی رہی

شعر کہتے رہے ، نعت ہوتی رہی سیرتِ مصطفیٰ پر جمی تھی نگہ اور تخیل کی بہتات ہوتی رہی تھے لبوں پر درودوں کے وہ زمزمے نکہتِ گُل کی برسات ہوتی رہی عرش پر بزمِ میلاد رکھی گئی معتبر آپ کی ذات ہوتی رہی جب سے اوڑھا اسیری کے اس شوق کو زندگی مثلِ میقات […]

تخلیق کا وجود جہاں تک نظر میں ہے

جو کچھ بھی ہے وہ حلقۂ خیرالبشر میں ہے روشن ہے کائنات فقط اُس کی ذات سے وہ نور ہے اُسی کا جو شمس و قمر میں ہے اُس نے سکھائے ہیں ہمیں آدابِ بندگی تہذیب آشنائی یہ اُس کے ثمر میں ہے چھوُ کر میں آؤںگنبدِ خضریٰ کے بام و در یہ ایک خواب […]

آقا کی محبت ہی مرے پیشِ نظر ہو

درپیش مجھے جب بھی مدینے کا سفر ہوں لگ جائیں مری سوچ کو پر کاش کبھی جو پرواز مری پہلی ہو احمد کا نگر ہو وہ کیف ِ حضوری ہو مجھے طوفِ نظر کا اپنا ہی پتہ ہو ، نہ کسی کی بھی خبر ہو درکار نہیں کچھ بھی مجھے شعر و سخن سے اِک […]

آتا ہے جب بھی لفظِ محمد اذان میں

میلاد ہونے لگتا ہے دل کے مکان میں صورت کی اُن کے سیرت و کردار کی کہیں ملتی نہیں مثال کسی بھی جہان میں حضرت حلیمہؓ آپ کی گودی کے لعل سا دھرتی پہ تھا نہ کوئی کہیں آسمان میں عشقِ رسولِ ہاشمی کی ہے یہ بھی عطا نعتیں سُنوں تو شہد ٹپکتاہے کان میں […]

ہے گزارش میری ذاتِ کبریا کے سامنے

میں ملوں خود کو درِ صلّیِ علیٰ کے سامنے میں جیوں تو سانس میری اُس نگر کی ہو رہین میں مروں تو روضۂ خیرالوریٰ کے سامنے جس نے ظلمت کو اُجالوں کی بشارت بخش دی اِک دیا روشن رہا سرکش ہوا کے سامنے جس کو تیرا دامنِ رحمت میسر آگیا بے خطر آیا وہ ہر […]