اِک ایسا فیضِ کرم چشمَِ التفات میں ہے

نبیؐ کا ذکر ہماری رگِ حیات میں ہے زمیں سے تابہ فلک لامکاں سے آگے تک کہ ذکر ساقیء کوثر کا کائنات میں ہے طلب کریں نہ کریں سب کو ہیں عطا کرتے عطا و جُود و کرم آپؐ کی صفات میں ہے گزر گیا جو حبیبِؐ خدا کی چوکھٹ پر وہ ایک لمحہ معظم […]

وہ روشنی ہے علیؓ کی گھر میں فلک سے جو نور بہہ رہا ہے

محبتوں کے کنول کھلے ہیں پہاڑ نفرت کا ڈھہ رہا ہے تمام شب آسماں سے لے کر زمیں تلک ذکرِ شہ رہا ہے عجب چراغاں ہے کہکشاں کا مَلَک مَلَک سے یہ کہہ رہا ہے حسین میرا حسین تیرا حسین سب کا حسین حیدر کا مصطفیٰ کا حسین رب کا خُدا کے پیارے نبی کے […]

حسن و جمالِ روضہء اطہر نظر میں ہے

منظر ابھی تلک وہ برابر نظر میں ہے ظلماتِ گرد و پیش مجھے کیا ڈرائیں گی صد شکر اُن کا رُوئے منور نظر میں ہے میں ہوں سیہ کار مگر روزِ حشر بھی مہر و عطائے شافعِ محشر نظر میں ہے آغاز جس کا حضرتِ حسانؓ سے ہوا وہ کاروانِ شوق مسلسل سفر میں ہے […]

نُورِ مدحت سے مرا قلب منور رکھنا

مدحِ سرکار سے لہجے کو معنبر رکھنا تیرے محبوب کو آقائی ہے زیبا مالک مجھ کو ہر وقت غلامی پہ مقرر رکھنا چند لمحوں کی جدائی بھی اگر ہو لازم فرقتِ سرورِ کونین موخر رکھنا کوئی لمحہ نہ رہے ذکرِ نبی سے خالی جانِ عالم کے تصور سے معطر رکھنا سبز و شاداب رہے یادِ […]

عشق میں خود سے محبت نہیں کی جا سکتی

پر کسی کو یہ نصیحت نہیں کی جا سکتی کنجیاں خانۂ ہمسایہ کی رکھتے کیوں ہو اپنے جب گھر کی حفاظت نہیں کی جا سکتی کیسے وہ بستیاں آباد کریں گے ، جن سے در و دیوار کی عزت نہیں کی جا سکتی کچھ تو مشکل ہے بہت کارِ محبت اور کچھ یار لوگوں سے […]

سمندروں کے درمیان سو گئے

تھکے ہوئے جہاز ران سو گئے دریچہ ایک ہولے ہولے کھل گیا جب اُس گلی کے سب مکان سو گئے سلگتی دوپہر میں سب دکان دار کُھلی ہی چھوڑ کر دکان سو گئے پھر آج اک ستارہ جاگتا رہا پھر آج سات آسمان سو گئے ہوا چلی کُھلے سمندروں کے بیچ تھکن سے چور بادبان […]