چاند اشارے سے توڑ دیتے ہیں

توڑ کر پھر سے جوڑ دیتے ہیں سیر چشمی جسے نہیں دیتے اس کو ہر شے کی تھوڑ دیتے ہیں ان کی اطاعت کی رہگزاروں پر لاکھ خرچو کروڑ دیتے ہیں پورا پورا حصار میں لے کر اپنے دشمن کو چھوڑ دیتے ہیں یہ بھی ان کے کرم کی صورت ہے جتنی ہوتی ہے لوڑ […]

واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحیٰ تیرا

کوئی دنیائے عطا میں نہیں ہمتا تیرا ہو جو حاتم کو میسر یہ نظارا تیرا کہہ اٹھے دیکھ کے بخشش میں یہ رتبہ تیرا واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحیٰ تیرا نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا کچھ بشر ہونے کے ناتے تجھے خود سا جانیں اور کچھ محض پیامی ہی خدا […]

پائندہ تیرا نور اے شمع حرم رہے

روشن ترا جمال اے ماہ عجم رہے تو نے عطا کیے ہیں کنیزوں کو تخت و تاج تیرے غلام صاحب جاہ و حشم رہے جب تک جبین دل ترے دل پر جھکی رہی اپنے حضور قیصر و فغفور خم رہے کرتے رہے حکایت مہر و وفا رقم جب تک ہمارے ہاتھ میں لوح و قلم […]

یاد آئی تو در ناب امڈ آئے ہیں

حسرت دید کے سیلاب امڈ آئے ہیں بھیگی بھیگی ہے فضا آج جہان دل کی آنکھ پر کرمک شب تاب امڈ آئے ہیں کون سا ابر کرم غار حرا پر برسا ہر طرف نور کے سیلاب امڈ آئے ہیں شافع روز جزا ، رحمت کل، خیر کثیر کس قدر خیر کے اسباب امڈ آئے ہیں […]

جب تک کہ جان جان میں اور دم میں دم رہے

ہے آرزو کہ دل تری چوکھٹ پہ خم رہے عظمت کو ان کی عرش نے جھک جھک کیا سلام جو لوگ تیرے ساتھ رہیں ستم رہے گر فکر ہو تو تیری اطاعت کی فکر ہو گر غم رہے تو تیری محبت کا غم رہے سیرت میں تیری کوئی کہیں پیچ و خم نہ تھا کچھ […]

گھٹا فیضان کی امڈی ہوئی ہے

چمن کی ہر کلی نکھری ہوئی ہے حرا کا چاند پہنچا ہے فلک پر عرب کی سرزمیں اونچی ہوئی ہے لبا لب بھر گیا ہے ظرف امکاں تجلی اس قدر پھیلی ہوئی ہے زمیں پر آسماں اترا ہے یا پھر بلندی پر زمیں پہنچی ہوئی ہے غرور و عرش و کرسی مٹ گیا ہے نگاہ […]

محمد مظہر شان خدا ہیں

محمد بندہ یزداں نما ہیں محمد رحمتوں کی وہ گھٹا ہیں کہ جس کی ذیل میں ارض و سما ہیں محمد ہیں مدارِ حسن و خوبی محمد صدرِ بزمِ ا نبیائ ہیں محمد عظمتوں کی آخری حد محمد خوبیوں کی انتہائ ہیں وہی ہیں بے سہاروں کا سہارا وہی بے آسروں کا آسرا ہیں وہکتا […]

شــیوہ عـــفو ہــو ، پیـــمانہ سالاری ہـــو

شــیوہ عـــفو ہــو ، پیـــمانہ سالاری ہـــو پڑھ یہ سنت، کہ تری فکر میں بیداری ہـــو خطبہ خیــر کو تفصیل سے، ترتیــل سے پڑھ تاکہ وجــدان میں وجدان سی سرشاری ہـــو لطــف تو تــب ہے کہ ہــر آن براہیمــی درود آنکھ کی روح سے زمزم کی طرح جاری ہـــو کون ہے میرے محــمد کے علاوہ […]

’’منظور تھی جو شکل تجلی کو نور کی‘‘

وہ شکل دل نواز تھی قسمت حضور کی گھونگھٹ میں کنت کنزل کے شرما رہے تھے کیوں پیش نظر ضرور تھی صورت حضور کی تخلیق کائنات کا باعث حضور ہیں تزئین کائنات ہے بعثت حضور کی رنگ بہار گلشن ہستی کی تازی سنت حضور کی ہے شریعت حضور کی کہتا ہے جس کو لہجہ جبریلؑ […]