’’تیری سرکار میں لاتا ہے رضاؔ اُس کو شفیع‘‘
سارے ولیوں میں ہوا مرتبہ ہاں ! جس کا رفیع پرتوِ پاک ترا، عاشق و شیدا تیرا ’’جو مرا غوث ہے اور لاڈلا بیٹا تیرا‘‘
معلیٰ
سارے ولیوں میں ہوا مرتبہ ہاں ! جس کا رفیع پرتوِ پاک ترا، عاشق و شیدا تیرا ’’جو مرا غوث ہے اور لاڈلا بیٹا تیرا‘‘
مرحبا رنگ ہے کیا سب سے نرالا تیرا جھوم اٹھا جس نے پیا وصل کا پیالا تیرا اولیا ڈھونڈتے پھرتے ہیں اجالا تیرا واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا جیسے چاہے تری سنتا ہے سناتا ہے تجھے حسبِ تدبیر سلاتا ہے جگاتا ہے تجھے اپنی […]
واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا مرحبا رنگ ہے کیا سب سے نرالا تیرا جھوم اٹھا جس نے پیا وصل کا پیالا تیرا اولیا ڈھونڈتے پھرتے ہیں اجالا تیرا واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا جیسے چاہے تری سنتا ہے سناتا ہے تجھے […]
ہو بھی سکتا ہے کہ اس دنیا میں ہوں ہم سے کئی چار آنکھیں چاہئیں اس کی حفاظت کیلئے آنے جانے کیلئے جس گھر میں ہوں رستے کئی آدمی کے پر لگے ہیں جب سے سمٹی ہے زمیں اب تو جینے کے لئے درکار ہیں چولے کئی ٹھن گئی ہے اس لئے تقدیر اور تدبیر […]
جیسے جبریل نے میرے لئے پر کھولے ہیں ہے ردا پوشی مری دنیا دکھاوے کے لئے ورنہ خلوت میں بدلنے کو کئی چولے ہیں
’’میں کیوں غیر کی ٹھوکریں کھانے جاؤں ‘‘ بجز تیرے صدقہ کہاں سے میں پاؤں ترا نام آقا پکارا کروں میں ’’ ترے در سے اپنا گذارا کروں میں ‘‘
تیرگی میں اجالا ہمارا نبی روشنی کا حوالا ہمارا نبی غیب داں ، کملی والا ہمارا نبی سب سے اولی و اعلی ہمارا نبی سب سے والا و اعلی ہمارا نبی بحر غم میں کنارا ہمارا نبی چشم عالم کا تارا ہمارا نبی آمنہ کا دُلارا ہمارا نبی اپنے مولی کا پیارا ہمارا نبی دونوں […]
یوں بخشواؤ جن و بشر کو خبر نہ ہو دھل جائیں داغ ، دامنِ تر کو خبر نہ ہو ایسے گزارو ، نارِ سقر کو خبر نہ ہو پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو جبریل پر بچھائیں تو پر کو خبر نہ ہو دستِ خزاں کی زد میں ہے دل اس […]
رکھ دیا قدرت نے اعجازِ مثالی ہاتھ میں منتظر ہے حکم کا گنج لآلی ہاتھ میں سبز ہو جائیں جو پکڑیں خشک ڈالی ہاتھ میں ہے لب عیسی سے جاں بخشی نرالی ہاتھ سنگ ریزے پاتے ہیں شیریں مقالی ہاتھ میں اس کا فیضِ عام سائل کو صدا دیتا ہے آپ وہ جہانِ لطف و […]
صاحب تاجِ عزت پہ لاکھوں سلام واقفِ راز فطرت پہ لاکھوں سلام قاسمِ کنزِ نعمت پہ لاکھوں سلام مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام شمع بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام جس کو بے چین رکھتا تھا امت کا غم نیک و بد پر رہا جس کا یکساںکرم وہ حبیب خدا ، وہ شفیع امم شہر […]