کتابِ مدحت میں شاہِ خوباں کی چاہتوں کے گلاب لکھ دوں
ورق ورق چاندنی لٹاتے کروڑہا ماہتاب لکھ دوں وہ سنگریزے جو راستوں میں پڑے ہوئے ہیں وہ محترم ہیں دیارِ خوشبو کے ذرے ذرے کو نازشِ آفتاب لکھ دوں ہوائیں سرگوشیوں میں مژدے شفاعتوں کے سنا رہی ہیں ہوائے بطحا کے مہکے جھونکوں کو مشک و عنبر کے خواب لکھ دوں یقیں ہے کامل درود […]