کہوں گا حالِ دل سرکارِ عالم کملی والے سے
غیر منقوط کہوں گا حالِ دل سرکارِ عالم کملی والے سے ملے گا دل کے ہر گھاؤ کو مرہم کملی والے سے کلی دل کی کھلے گی گل کھلے گا وصلِ سرور کا ہرا ہو گا ہمارے دل کا موسم کملی والے سے سوائے روحِ عالم کے کہاں کوئی ہمارا ہے لگی ہے آس محمودِ […]