رضی اختر شوق کا یومِ وفات

آج ریڈیو پاکستان کے ایک معتبر پروڈیوسر اور ڈرامے کی توانا آواز اور اردو کے معروف شاعر رضی اختر شوق کا یومِ وفات ہے ۔ (پیدائش:23 اپریل 1933ء – 22 جنوری 1999ء) —— ہم روح سفر ہیں ہمیں ناموں سے نہ پہچان کل اور کسی نام سے آجائیں گے ہم لوگ —— اس زبان زد […]

نقش لائلپوری کا یومِ وفات

آج معروف شاعر اور ہندوستانی فلموں کے گیت نگار، جناب نقش لائلپوری کا یومِ وفات ہے۔ (پیدائش: 24 فروری 1928- وفات: 22 جنوری 2017) —— نقش لائلپوری کا اصل نام جسونت رائے شرما ہے۔ وہ 24 فروری 1928ء کو متحدہ ہندوستان کے شہر لائلپور (موجودہ فیصل آباد) میں ایک برہمن خاندان میں پیدا ہوئے۔ نقش […]

ایسی تخیلات میں تجریدیت گھلی

منظر وہ دیکھتا ہوں جو امکان میں نہیں تخلیق کار ہوں کوئی معمار تو نہیں بے ساختہ بیان ہے اوزان میں نہیں پائی نفاستوں نے بہت کھردری زمیں اُدھڑا ہوا مزاج کہ اوسان میں نہیں ہذیان بک رہا ہوں کہ تکلیف میں ہوا مفہوم کچھ حروف کے دامان میں نہیں اک چیخ ہے حضور جو […]

عنایت

آہستگی کے ساتھ بچھڑنے کی کوششیں ائے پیکرِ کرم ، یہ کرشمہ کمال ہے میں یوں بھی کون ہوں کہ مجھے اعتراض ہو؟ اُلٹی ہوئی بساط کا فردا نہ حال ہے ناکامیاب شوق پہ اصرار بھی کروں؟ احسان ہے ترا کہ تعلق بحال ہے ہے مائلِ گریز بھی کس احتیاط سے آخر تلک تجھے میرا […]

دشت ِ قضاء میں خاک اُڑاتی حیات کی

دشتِ قضاء میں خاک اُڑاتی حیات کی مبہم سی ایک شکل رہی واقعات کی آخر کو ارتکاز دھماکے سے پھٹ گیا درپے کشش رہی تھی مرے شش جہات کی جب میں ہی عارضی ہوں تو کیا دائمی وفا جچتی نہیں ہے بات بھی لب پر ثبات کی اُس آسماں بدوش نے پہلو بدل لیا بنیاد […]

بات کب رہ گئی مرے بس تک

آگ جب خود ہی آ گئی خس تک خواب گاہوں کے در مقفل تھے خواب دیتے ہی رہ گئے دستک ہجر کی دھوپ کھا گئی تجھ کو تیرے ہونٹوں کا اُڑ گیا رس تک زندگی ، آ ، کہیں پہ چھپ جائیں گن لیا ہو گا موت نے دس تک دفعتاً ہی اجل نے کھینچ […]

دل بہت دیوانگی کی منزلیں طے کر چکا

اب کہاں جاتی ہے وحشی تک مری آواز بھی چاند بھی گھٹنے لگا ہے سرمئی آفاق پر اور گھٹتی جا رہی ہے قوتِ پرواز بھی توڑنا دم کا بہر صورت یقینی تھا مگر دیر تک دل کو سنبھالے رہ گئے دم ساز بھی مرتعش سیماب ٹھہریں کلبلاتی حیرتیں آخرش عریاں ہوا ہے وہ سراپا ناز […]

اَئے ابر زاد ، تیرے بدن پر یہ آبلے؟

ہم تو ترے بقول ، چلو دھوپ سے جلے آوارگانِ دشتِ محبت کی کچھ کہو زندانِ بے دِلی میں کوئی بات تو چلے یوں ہے کہ اب نہیں ہے مداوا وصال بھی کٹنے کو کٹ گئے ہیں جدائی کے مرحلے درپے ہوا ہو عشق ، تو پھر معجزہ سمجھ یہ لے کے میری جان ، […]

اب کچھ بساطِ دستِ جنوں میں نہیں رہا

میرا قیام ، شہرِ فسوں میں نہیں رہا اُس کی حِنا بنے کہ بھلے رزقِ خاک ہو وہ خون جو کہ میری رگوں میں نہیں رہا ہو منتشر دھوئیں میں کہ رقصاں ہوا میں ہو شعلہ ہوا خیال ، حدوں میں نہیں رہا بڑھنے لگی زمین مری سمت جس طرح شاید مرا وجود پروں میں […]

عُشاق اُٹھ رہے ہیں ترے در کی خاک سے

ائے سجدہ گاہِ حسن ، زرا مل تپاک سے طاقوں میں پھڑپھڑانے لگی مشعلوں کی لوء دل کانپنے لگے ہیں محبت کی دھاک سے یوں تو اُڑی ہے نیند ، مگر غم کسے رہا یہ رتجگے تو اور بھی ہیں خوابناک سے ہنس کر گلے لگاو تو عریانیاں چھپیں دامان مل چکے ہیں گریباں کے […]