کھلیں گلاب تو آنکھیں کھلیں اچُنگ چلے

پون چلے تو مہک اسکے سنگ سنگ چلے ہے میرا سوچ سفر فلسفے کے صحرا میں ہوا کے دوش پہ جیسے کٹی پتنگ چلے کسی کا ہو کے کوئی کس طرح رہے اپنا رہِ سلوک پہ جیسے کوئی ملنگ چلے طویل رات ہے ، بھیگی سحر ہے ، ٹھنڈی شام بڑے ہوں تھوڑے سے دن […]

ہے آب آب موج بپھرنے کے باوجود

دنیا سمٹ رہی ہے، بکھرنے کے باوجود راہِ فنا پہ لوگ سدا گامزن رہے ہر ہر نفس پہ موت سے ڈرنے کے باوجود اس بحرِ کائنات میں ہر کشتی انا غرقاب ہو گئی ہے ابھرنے کے باوجود شاید پڑی ہے رات بھی سارے چمن پہ اوس بھیگے ہوئے ہیں پھول نکھرنے کے باوجود زیرِ قدم […]

تھا ریگزار جس کو گلستاں بنا دیا

سرکار نے عرب کو بھی ذیشاں بنا دیا شق القمر کا معجزہ دکھلا کے آپ نے مکہ کے بدوؤں کو مسلماں بنا دیا باطل پرست ہو گئے حق آشنا سبھی جاہل تھے ان کو حاملِ قرآں بنا دیا جو بکریاں چراتے تھے ان کو حضور نے اسلام دینِ حق کا نگہباں بنا دیا سرور نے […]