کھلیں گلاب تو آنکھیں کھلیں اچُنگ چلے
پون چلے تو مہک اسکے سنگ سنگ چلے ہے میرا سوچ سفر فلسفے کے صحرا میں ہوا کے دوش پہ جیسے کٹی پتنگ چلے کسی کا ہو کے کوئی کس طرح رہے اپنا رہِ سلوک پہ جیسے کوئی ملنگ چلے طویل رات ہے ، بھیگی سحر ہے ، ٹھنڈی شام بڑے ہوں تھوڑے سے دن […]