خوش ہوں کہ پسِ مرگ یہ پہچان رہے گی

ہر مصرعِ مدحت میں مری جان رہے گی آدابِ محبت نہ فراموش کروں گا مستی بھی مری صاحبِ عرفان رہے گی یہ جسم کسی خاک میں پیوند ہو آقا یہ روح ترے شیر میں مہمان رہے گی صد شکر! ترا عشق سلامت ہے دلوں میں جب تک یہ رہا ، قوم مسلمان رہے گی دربار […]

شاعر سید ہاشم رضا کا یومِ پیدائش

آج ممتاز دانشور، شاعر اور سابق سول سرونٹ سید ہاشم رضا کا یومِ پیدائش ہے۔ 16 فروری 1910ء پاکستان کے ممتاز دانشور، شاعر اور سابق سول سرونٹ سید ہاشم رضا کی تاریخ پیدائش ہے۔ سید ہاشم رضا نیوتنی ضلع اناؤ یو پی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد جسٹس سید محمد رضا چیف کورٹ […]

مقصودِ دعا قلب پہ ظاہر ہوا جب سے

میں نے تو ترا عشق ہی مانگا تیرے رب سے بے مثل ترا نام ہے ، بے مثل گھرانا انسان کی عظمت ہے ترے نام و نسب سے اے نور! ترا نور ہے مسجودِ ملائک آدم کو یہ اعزاز ملا تیرے سبب سے ہے سورۂ اخلاص سے ظاہر یہ مشیت توحید کا اعلان ہو محبوب […]

ہجومِ دُشمناں اب چار سُو ہے

محافظ اُمتِ عاجز کا اب تُو ہے یہ لمحہ معتبر ہے ، محترم ہے مرے ہونٹوں پہ تری گفتگو ہے مہ کامل ہے روشن تر وہ چہرہ جہاں میں کون ایسا خوبرو ہے تصور سبز ہے ، آنسو معطر یہ کیسا رنگ ہے ؟ یہ کیسی بُو ہے ؟ میں ہجرِ مصطفیٰ میں رو رہا […]

شگفتہ ہے گُلِ امکانِ رحمت

تعلق آپ سے ہے جانِ رحمت سدا سر سبز ہیں گُلہائے مدحت مہکتا ہے سدا گُلدانِ رحمت بروزِ حشر اُن کے اُمتی کا سہارا ہے ، فقط پیمانِ رحمت اسی در سے ملا ہے عارفوں کو شعورِ زندگی ، عرفانِ رحمت گروہِ انبیاء میں منفرد ہے تری شانِ شفاعت ، شانِ رحمت ترا دستِ سخا […]

کچھ اور ہو گا رنگِ طلب ، جالیوں کے پاس

روتا رہوں گا مہر بہ لب ، جالیوں کے پاس لکھوں کا جب قصیدۂ حُسنِ گُلِ مراد سوچوں گا کچھ جدید لقب ، جالیوں کے پاس مل جائے گی سُخن کو سند اعتبار کی نعتِ نبی کہوں گا میں جب جالیوں کے پاس اللہ دعا قبول کرے ، اہلِ حُب و شوق پہنچیں ترے حضور […]

ایک یہ بات ہے اصول کی بات

مستند ہے مرے رسول کی بات خلق کے غمگسار سُنتے ہیں اُن سے کہیے دلِ ملول کی بات کہکشاں کی کہانیوں سے بلند قدمِ مصطفیٰ کی دُھول کی بات لیلتہ القدر میں کریں عشاق حُسنِ سرکار کے نزول کی بات میرے آقا کریم ایسے ہیں خود بھلاتے ہیں میری بھول کی بات نعت ذوقِ جمال […]

مری نظر میں تری آرزو نظر آئے

مجھے وہ آنکھ عطا کر کہ تو نظر آئے کلام اپنا سمو دے وجود میں ایسا کہ میری چپ میں تری گفتگو نظر آئے میں جب بھی آئنہ دیکھوں غرورِ ہستی کا تو ایک عکسِ عدم روبرو نظر آئے ہٹا دے آنکھ سے میری یہ خواہشات کے رنگ جو چیز جیسی ہے بس ہوبہو نظر […]

دیدہ وروں سے کور نگاہی ملی مجھے

ایسے پڑھے ورق کہ سیاہی ملی مجھے کس دشت میں چلا ہوں کہ احساس مر گیا صورت دکھائی دی نہ صدا ہی ملی مجھے خالی پیالے سینکڑوں ہاتھوں میں ہر طرف تشنہ لبی اور ایک صراحی ملی مجھے ہمزاد میرا مر گیا میری انا کے ساتھ ورثے میں تخت ذات کی شاہی ملی مجھے اپنی […]

جوکر

ایک سہانی شام تھی شاید پائل کی جھنکار کو لے کر وہ میرے کمرے میں آئی میز پہ رکھی تاش کی ڈبیا کھول کے اُس نے سارے پتے شوخ سے اِک انداز میں آکر میری جانب پھینک دیئے تھے میں آنکھوں میں دھر حیرانی اپنی گود اور چاروں جانب بکھرے پتے دیکھ رہا تھا اینٹ […]