آؤ ماتم کریں اُداسی کا

شہر، گلیاں، نگر، تمام اُداس چاند، تارے اُداس، شام اُداس صبح سے شام کا نظام اُداس تیرا وہ آخری سلام اُداس کیا تغیّر ہے تیرے جانے سے شہر بھر کاٹنے کو دوڑتا ہے ہر گلی اُنگلیاں اُٹھاتی ہے میں نے سوچا کبھی نہ تھا لیکن اَب تِری یاد بھی ستاتی ہے پھر تِری یاد گھیر […]

کاجل

وقت نے جتنی مہلت دی تھی اُس سے سوا محسوس کیا ہے اپنی آنکھوں سے گالوں تک اُس کا لمس سجا رکھا ہے ایک گھڑی ایسی بھی گزری جس نے درد اُجال دیا ہے ہر اِک غم کو ٹال دیا ہے میرے سوہنے ڈھول سائیں نے کیسا اُسے کمال دیا ہے اُس نے اپنے ہاتھ […]

سکون دل کے لیے جاوداں خوشی کے لیے

نبی کا ذکر ضروری ہے زندگی کے لیے مقام فیض کی تم کو اگر تمنا ہے درود پڑھتے رہو اپنی بہتری کے لیے اسے بھی اذن حضوری کا شرف مل جاتا تڑپ رہا ہے جو سرکار حاضری کے لیے خدائے پاک نے کیا کیا نہ اہتمام کیا حبیبِ پاک سے ملنے کی اک گھڑی کے […]

ماں کے نام

مائیں سُکھ کی چھاؤں جیسی ہوتی ہیں دُکھ میں سرد ہواؤں جیسی ہوتی ہیں دے کر اپنی خوشیاں دُکھ سہہ لیتی ہیں یہ مقبول دعاؤں جیسی ہوتی ہیں سارے رشتے عین وفا سے خالی ہیں یہ بھرپور وفاؤں جیسی ہوتی ہیں جب سنّاٹا روحیں گھائل کرتا ہے تب باسوز صداؤں جیسی ہوتی ہیں زینؔ دکھوں […]

میسج

بچھڑے ہوئے لمحوں کو آواز نہیں دیتے اُجڑے ہوئے نغموں کو پھر ساز نہیں دیتے جو غم سے بکھر جائیں چُن لیتے ہیں وہ موتی ہر جان سے پیارے کو ہر راز نہیں دیتے تم سے جو محبت ہے پھر تم سے گلہ کیسا بس اتنی شکایت ہے جب دور نکل جاؤ آواز نہیں دیتے

’’ بول پیا‘‘

ذات کا گنجل کھول پِیا ’’کچھ بول پِیا‘‘ اس رات کی کالی چادر کو یہ چاند ستارے اوڑھ چکے کچھ جان سے پیارے یار سجن دل توڑ چکے، مکھ موڑ چکے خود آپ بھٹکتی راہوں میں یہ تن تنہا مت رول پِیا ’’کچھ بول پِیا‘‘ وہ عشوہ و غمزہ دیکھ لیا اب رات کٹے گی […]

عشق پھر سے مجھے نیا کر دے

ہر بھرے زخم کو ہرا کر دے آسرا چھین لے مسیحا کا مجھے مرہم سے ماورا کر دے زہر بننے لگا ہے سناٹا شور مجھ میں کوئی بپا کر دے میں اک آشوبِ اعتبار میں ہوں اپنی آنکھیں مجھے عطا کر دے ترے رستے میں ہم سفر کیسا مجھے سائے سے بھی جدا کر دے […]

جذبۂ شوق! انتہا کر دے

ہر تمنا کو بے صدا کر دے قید اپنی انا کے بُت میں ہوں کوئی توڑے مجھے رہا کر دے عمر گزری مری کٹہرے میں زندگی اب تو فیصلہ کر دے قد گھٹا دے مری نظر میں مرا یا الٰہیٰ مجھے بڑا کر دے فخر کرتی ہے آدمی پہ حیات جب کسی کا کوئی بھلا […]

اپنے ہر درد کا درمان بنائے رکھا

غم اک ایسا تھا کہ سینے سے لگائے رکھا پاسِ ناموسِ مسیحا تھا مجھے درپردہ زخمِ جاں سوز کو مرہم سے بچائے رکھا ایک اندیشۂ ناقدریِ عالَم نے مجھے عمر بھر چشمِ زمانہ سے چھپائے رکھا کبھی جانے نہ دیا گھر کا اندھیرا باہر اک دیا میں نے دریچے میں جلائے رکھا دیکھ کر برہنہ […]

واعظ نے اپنے زورِ بیاں سے بدل دیا

کتنی حقیقتوں کو گماں سے بدل دیا ہونا تھا میرا واقعہ آغاز جس جگہ قصّے کو قصّہ خواں نے وہاں سے بدل دیا ہے شرطِ جوئے شیر وہی، وقت نے مگر تیشے کو جیسے کوہِ گراں سے بدل دیا اب مل بھی جائیں یار پرانے تو کیا خبر کس کس کو زندگی نے کہاں سے […]