ویسے میں ہر حلیف سے محروم تو ہوا

کس کس کی زد پہ ہوں مجھے معلوم تو ہوا کھوئے ہوئے کھلونے کی انتھک تلاش میں دنیا سے آشنا کوئی معصوم تو ہوا بکھرا ہوا تھا میرا فسانہ مری طرح اشعار کے بہانے سے منظوم تو ہوا لکھا گیا ہوں گرچہ خسارے کے باب میں لیکن تری کتاب میں مرقوم تو ہوا پھر سے […]

شاد و آباد رہو، وقت سدا خوش رکھے

تم جہاں جاؤ تمہیں میری دعا خوش رکھے فکرِ فردا سے بجھے جاتے تھے دل سینوں میں حوصلہ تم نے دیا، تم کو خدا خوش رکھے پائیدانوں پہ ترقی کے ملے عزت و نام بامِ شہرت پہ محبت کی ہوا خوش رکھے آگہی رستہ اُجالے، تمہیں دیکھے دنیا سازگاری ملے، منزل کی فضا خوش رکھے […]

دوستی گردش کی میرے ساتھ گہری ہو گئی

دل تھما تو رنگتِ حالات گہری ہو گئی کیسے اندازہ لگاتا اپنی گہرائی کا میں اپنی تہہ تک جب بھی پہنچا ذات گہری ہو گئی زندگی نے ہونٹ کھولے لفظ سادہ سے کہے تجربے نے آنکھ کھولی بات گہری ہو گئی چاندنی کی آس میں ہم دیر تک بیٹھے رہے ڈھونڈنے نکلے دیا جب رات […]

نشانِ منزلِ من مجھ میں جلوہ گر ہے تو

مجھے خبر ہی نہیں تھی کہ ہمسفر ہے تو سفالِ کوزۂ جاں! دستِ مہر و الفت پر تجھے گدائی میں رکھوں تو معتبر ہے تو علاجِ زخمِ تمنا نے مجھ کو مار دیا کسی کو کیسے بتاؤں کہ چارہ گر ہے تو چراغِ بامِ تماشہ کو بس بجھا دے اب میں جس مقام پہ بیٹھا […]

سادگی ہوئی رخصت، زندگی کہاں جائے

زندگی کی خاطر اب آدمی کہاں جائے جرم ہے دیا رکھنا شب پرست گلیوں میں اس قدر اندھیرا ہے، روشنی کہاں جائے ہر طرف مکان اونچے چیختی صداؤں کے آسمان تکنے کو خامشی کہاں جائے آنگنوں میں پہرے ہیں رات بھر اجا لوں کے دشت میں نہ جائے تو چاندنی کہاں جائے سُر تو ساتھ […]

تیرے نام کا ورد پِیا

ہونٹوں کی مجبوری ہے میرے وقت کی دلہن نے چپ کا زیور پہنا ہے ہجر زدہ دیوانوں کو موسم راس نہیں آتے میں اپنی تنہائی سے سب کچھ ٹھیک نہیں کہتا آپ کبھی خاموشی سے باتیں کر کے دیکھو نا میری آنکھ میں ساون کے بادل چھائے رہتے ہیں خواب خفا ہو جاتے ہیں محرومی […]

آنکھ میں ہی ٹھہر گیا دریا

جونہی سر سے اتر گیا دریا آنکھ کب تک سمیٹ کر رکھتی ایک پل میں بکھر گیا دریا کون اترا ہے تشنگی لے کر؟ ہائے لوگو! کدھر گیا دریا؟ شہر والوں میں شور برپا تھا چپکے چپکے گزر گیا دریا باعثِ بے گھری بنا یارو جانے کس کس کے گھر گیا دریا رات آنکھوں میں […]

منظرِ دشتِ تگ و تاز بدل کر دیکھا

رزق کو رفعتِ پرواز بدل کر دیکھا سلسلہ کوئی ہو انجام وہی ہوتا ہے ہم نے سو مرتبہ آغاز بدل کر دیکھا بس وہی ہجر کے سرگم پہ وہی درد کی لے مطربِ عشق نے کب ساز بدل کر دیکھا میرے شعروں سے ترے رمز و کنائے نہ گئے میں نے ہر مصرعۂ غماز بدل […]

شغل سب سے بھلا درود شریف

کتنی افضل دعا درود شریف بات اس سے زیادہ اور ہو کیا پڑھتا ہے خود خدا درود شریف اُس کو جنت میں بھیج دے گا خدا دل سے جس نے پڑھا درود شریف مومنوں سہل کیا یہ نسخہ ہے ہر مرض کی دوا درود شریف چاہتے ہو بھلائی گر شیداؔ پڑھتے رہنا سدا درود شریف