پیار کرو ۔ناں

پریم کی ندیا جھوم رہی ہے پریم کے جل میں پیر دھرو نا پیار کرو نا سنّاٹوں کی بھیڑ سے نکلو خاموشی کے ساز کو توڑو چاہت کا اک ساز بجاؤ راگ پہاڑی، ماروا،ایمن کیسری، میگھا،میانکی تُوڑی دیش کے سُر بھی اچھے ہیں ناں یا ملہاری کے بھیگے سُر یا دیپک میں آگ لگاتے کومل، […]

غمِ فرقت کا چارہ ہی نہیں ہے

مرا تجھ بن گزارا ہی نہیں ہے کہاں ہے آئینے کی راست گوئی یہ چہرہ تو ہمارا ہی نہیں ہے پریشاں زلف تھی غم میں تمہارے اسے ہم نے سنوارا ہی نہیں ہے تماشا دیکھنے کو آئے ہیں وہ جنھیں ذوقِ نظارا ہی نہیں ہے اُسے کیوں وقت میں شامل کروں میں اُسے میں نے […]

جسم سے روح کا جدا ہونا

کتنا آساں ہے بے وفا ہونا گُر نہ آیا مجھے منانے کا اُس نے سیکھا فقط خفا ہونا کوئی ذرّہ کہیں نہ رہ جائے تم ذرا ٹھیک سے جدا ہونا مشق جاری ہے غلط ہونے کی سیکھ جائیں گے ہم بجا ہونا اچھے اچھوں کا فیض پایا ہے ہم کو اچھا لگا بُرا ہونا آفتِ […]

تو اداس کر یا اداس رہ، مرے پاس رہ

مری آرزو، مری جستجو، مجھے راس رہ مجھے توڑ تاڑ کے پھینک دے کسی شاخ سے تو بکھیر شوق سے کوبکو ، مجھے راس رہ مری آگہی کا قصور ہے، کوئی دور ہے مری بے خبر! مری آبرو! مجھے راس رہ مرا حرف حرف طلسم ہے یہ بجا مگر مری ناشنیدہ سی گفتگو، مجھے راس […]

اِک تری یاد سے لڑی ہوں میں

ہجر کی آگ میں کھڑی ہوں میں تُو کبھی جھانک اپنی کھڑکی سے تیری چوکھٹ پہ آ پڑی ہوں میں اَب کسی روز مجھ پہ افشا کر ضبط کی کون سی کڑی ہوں میں؟ چشمِ نم سبز مجھ سے رہتی ہے ایک برسات کی جھڑی ہوں میں زینؔ دیکھا سمے نہیں رُکتا دیکھ ٹھہری ہوئی […]

لُٹا ہے میرا خزانہ مرے برابر سے

بدل گیا وہ ٹھکانہ مرے برابر سے جو تِیر میرا نہیں تھا اُسی کا مجرم ہوں لیا گیا تھا نشانہ مرے برابر سے پلٹ کے کر گیا تلقین مجھ کو رُکنے کی ہوا ہے جو بھی روانہ مرے برابر سے بڑھا گیا مرا احساسِ عمر رفتہ کچھ اور گزر کے یار پرانا مرے برابر سے […]

چند لمحوں کا ہے زوال مرا

اُس کو آتا نہیں خیال مرا آپ کا بھی کوئی جواب نہیں آپ سنتے نہیں سوال مرا رنگ بھرتا ہوں میں چراغوں میں تو نے دیکھا نہیں جمال مرا حوصلہ ہے ترے فقیروں کا دیکھ مجھ کو نہیں ملال مرا زینؔ ہنس کر گلے لگاؤں اُسے لوٹ آئے جو خوش خیال مرا