کاش ایسا ہو کوئی بات ضروری رہ جائے
آج پھر اُن سے ملاقات ادھوری رہ جائے
معلیٰ
آج پھر اُن سے ملاقات ادھوری رہ جائے
اور چپ رہوں تو پھر مری پہچان جائے گی
جو نظر آتا ہے میرا، وہ نہیں ہے میرا
ویسے ممکن تو نہیں پھر بھی میں کر دیکھوں گا
پھر وہی کام سویرے جو مسافت دے گا
اسی زنداں میں ہمیں جینا ہے مر جانا ہے
سنا ہے پھر سے محبت کے امتحاں ہوں گے جو داغ مٹ گئے دل کے وہ پھر عیاں ہوں گے
ہماری عید یہی ہے کہ تم سے بات کریں تمہارے شوخ لبوں سے چرا کے شرماہٹ گلاب و لالۂ و سنبل کے رنگ مات کریں
نشاطِ قرب میسر ہے اتنی دوری میں
بیچ کر مجھ کو مرے منہ میں نوالا دے گا فرق مٹ تو گئے مابین سفید و سیہ اب اور کتنا یہ نیا دور اُجالا دے گا جس کی خاطر میں نے پہچان گنوائی اپنی اب وہی میرے تشخص کو حوالہ دے گا سر جھکاتا ہے پذیرائی کے انداز میں آج کل یہی شہر ہمیں […]