نظمِ نو آ گیا، انصاف نرالا دے گا

بیچ کر مجھ کو مرے منہ میں نوالا دے گا فرق مٹ تو گئے مابین سفید و سیہ اب اور کتنا یہ نیا دور اُجالا دے گا جس کی خاطر میں نے پہچان گنوائی اپنی اب وہی میرے تشخص کو حوالہ دے گا سر جھکاتا ہے پذیرائی کے انداز میں آج کل یہی شہر ہمیں […]