بات جو دل میں نہیں لب سے ادا کیسے کروں
میں خفا تو ہو گیا اُس سے، گلہ کیسے کروں دل کے ٹوٹے آئنے میں عکس ہے اک خواب کا قیدِ رنگ و روپ سے اُس کو رہا کیسے کروں سوچتا ہوں اک ہجومِ صد بلا کے درمیاں عافیت کے خواب کو میں واقعہ کیسے کروں روز و شب کے گنبدِ بے دَر سے مشکل […]